فارمولہ ای ریسنگ پر اسمبلی میں مباحث کرانے کا مطالبہ

   

کے ٹی آر کا چیف منسٹر کو مکتوب ، ریس کا اہتمام کرنے سے 700 کروڑ آمدنی ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے فارمولہ ای کار ریسنگ مسئلہ پر اسمبلی میں مباحث کرانے کا چیلنج کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ فارمولہ ای کار ریسنگ کے مسئلہ پر حکومت چند ماہ سے سابق بی آر ایس حکومت پر بالخصوص میرے ( کے ٹی آر ) کے خلاف جھوٹے بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے ۔ دیواروں کے درمیان مباحث کرنے کے بجائے اسمبلی میں ریاست کے 4 کروڑ عوام کے سامنے مباحث کرنے پر ہی حقائق منظر عام پر آنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کے برانڈ امیج کو بہتر بنانے کے لیے سابق بی آر ایس حکومت نے فارمولہ ای ریس انتظامیہ سے ایک معاہدہ کیا ۔ اس ریس کے انعقاد سے ریاست کے مالیاتی نظام کو تقریباً 700 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ نیلسن ادارہ کی رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ 2024 میں مزید ایک مرتبہ فارمولہ ای ریسنگ کا انعقاد کرنا تھا ۔ تاہم ریاست میں کانگریس حکومت تشکیل پانے کے بعد یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے اس ریس کو منسوخ کردیا گیا ۔ جس کے بعد سے سیاسی انتقام حصہ کے طور پر فارمولہ ای ریسنگ کے خلاف منظم سازش کے تحت میڈیا کے ذریعہ اس کی جھوٹی تشہیر کرائی جارہی ہے ۔ اس ریس میں بڑا اسکام ہونے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں ۔ فارمولہ ای ریس کا معاہدہ مکمل شفافیت پر مشتمل ہے ۔ ریس کے انعقاد کیلئے کی گئی ادائیگیاں بھی مکمل شفاف ہے ۔ اس کی وہ پہلے ہی وضاحت کرچکے ہیں ۔ باوجود اس کے کانگریس حکومت اس کی جھوٹی تشہیر کررہی ہے ۔ حقائق کیا ہے ؟ اس کے بارے میں معلومات کرنا ریاست کے عوام کا حق ہے ۔ 2
لہذا وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اس مسئلہ پر اسمبلی میں مباحث کا اہتمام کریں ۔ تب ہی حقیقت کا پتہ چلنے کا مکتوب کے ذریعہ دعویٰ کیا ۔۔ 2