Tuesday , October 22 2019

فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار، قیامگاہ جیل بن گئی

٭ سخت قانون میں کسی بھی کشمیری کو ٹرائل کے بغیر چھ ماہ زیرحراست رکھنے کی گنجائش
٭ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی و دیگر قائدین بدستور گھر پر نظربند
٭ کشمیر میں لگاتار 43 ویں روز عام زندگی متاثر، والدین کا بچوں کو اسکول بھیجنے سے انکار

سرینگر ، 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر فاروق عبداللہ جو 5 اگست سے محروس ہیں، انھیں اب سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کی گنجائش کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ قانون حکام کو کسی بھی فرد کو ٹرائل کے بغیر چھ ماہ تک زیرحراست رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے پیر کو کہا کہ نیشنل کانفرنس کے 81 سالہ سرپرست کے خلاف یہ سخت قانون اتوار کو لاگو کیا گیا۔ ویسے وہ جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کو حکومت کی جانب سے منسوخ کئے جانے کے بعد سے ہی اپنے گھر پر نظربند ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ تین مرتبہ کے چیف منسٹر کی گپکر روڈ قیامگاہ کو ایک جی او کے ذریعے جیل قرار دیا گیا ہے۔ وادیٔ کشمیر میں معمول کی زندگی لگاتار 43 ویں روز متاثر ہے جبکہ اکثر دکانات بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔ خود عہدیداروں نے کہا کہ وادی میں نارمل لائف میں بدستور خلل ہے۔ تاہم، خانگی کاروں کی آمدورفت شہر اور وادی کے دیگر مقامات پر بلارکاوٹ جاری ہے۔ آٹو رکشا اور انٹر ڈسٹرکٹ کیابس بھی بعض علاقوں میں چلتے دیکھے گئے ہیں۔ انٹرنٹ سرویس بھی تمام پلیٹ فارمس پر ہنوز معطل ہے۔ لینڈلائن پوری وادی میں کارکرد ہے، لیکن موبائل فونس پر وائس کالس صرف شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور ہندواڑہ پولیس ڈسٹرکٹس میں کام کررہے ہیں۔ فاروق عبداللہ کی گرفتاری پی ایس اے کے ’پبلک آرڈر‘ کے تحت ہوئی ہے، جو حکام کو انھیں چھ ماہ تک ٹرائل کے بناء محروس رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔ پی ایس اے کے دو دفعات ہیں… امن عامہ اور مملکت کی سلامتی کو خطرہ… اول الذکر ٹرائل کے بغیر چھ ماہ اور آخرالذکر دو سال تک محروسی کی اجازت دیتا ہے۔ فاروق عبداللہ جو سرینگر سے لوک سبھا ایم پی ہیں، پی ایس اے کے تحت ماخوذ کئے جانے والے اولین شخص بنے جو چیف منسٹر جموں و کشمیر رہ چکے ہیں۔ ان کی پی ایس اے کے تحت حراست ایک روز قبل ہوئی جبکہ سپریم کورٹ نے پیر کو مرکز اور جموں و کشمیر کے انتظامیہ سے کہا کہ اُس عرضی پر جواب دیں جس میں سابق چیف منسٹر کی عدالت میں پیشی کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ پٹیشن ٹاملناڈو کے ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے داخل کی، جنھوں نے فاروق عبداللہ کی رہائی چاہی تاکہ وہ چینائی میں منعقد شدنی ایک ایونٹ میں شرکت کرسکیں۔ وائیکو اور فاروق چار دہوں کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں۔ پی ایس اے صرف جموں و کشمیر میں قابل اطلاق ہے۔ ملک میں دیگر جگہوں پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) قابل اطلاق ہے۔ فاروق عبداللہ کے فرزند اور سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ اور ایک اور سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر قائدین بھی 5 اگست سے نظربند ہیں، جب حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کی تنسیخ اور ریاست کی دو مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ وادیٔ کشمیر میں عام زندگی کو معمول پر لانے ریاستی حکومت کی کئی کوششیں رائیگاں ہورہی ہیں۔ وہ اسکولس کھولنا چاہتے ہیں لیکن والدین اپنے بچوں کو ان کی سلامتی کے تعلق سے خدشات کے سبب گھر پر ہی رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وادی کے اکثر علاقوں میں کوئی تحدیدات لاگو نہیں ہیں، لیکن وہاں پر لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے سکیورٹی فورسیس کی تعیناتی جاری ہے۔

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT