فاطمہ اویسی کیمپس کے انہدام پر حیدرا نے قطعی فیصلہ نہیں کیا

   

سرم چیروو کے شکم میں تعمیر پر ابتدائی نوٹس کی اجرائی ۔ کمشنر اے وی رنگناتھ کی وضاحت
حیدرآباد 7 جولائی (سیاست نیوز) فاطمہ اویسی کیمپس کے انہدام پر ’حیدرا‘ نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیاہے لیکن ابتدائی طور پر نوٹس کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے ۔ کمشنر ’حیدرا‘ اے وی رنگاناتھ نے کل اپنے X کھاتہ کے ذریعہ عوام کے سوالات کے جواب میں یہ بات بتائی اور کہا کہ ’سرم چیروو‘کے شکم میں تعمیر کی گئی عمارت کے انہدام کو روکنے ان پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے لیکن اس عمارت میں تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرنے والے 10ہزار سے زائد طلبہ جو کہ غریب مسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کے مستقبل اور انہدامی کارروائی کے نتیجہ میں سماجی اثرات کے پیش نظر کارروائی نہیں جارہی ہے۔ اے وی رنگاناتھ نے بتایا کہ’حیدرا‘ نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک 60تا70 عوامی پارکس کی بحالی کے ذریعہ انہیں عوام کیلئے کھولا ہے ۔ انہوں نے سن سٹی پی اینڈ ٹی کالونی کے شہریوں کی جانب سے 125ایکڑ پر محیط آبادی کیلئے کوئی پارک نہ ہونے کے متعلق شکایات پر یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایاکہ علاقہ کے رہائشی مکینوں کی تنظیموں کو اس میں پہل کرنا چاہئے تاکہ ’حیدرا‘ ان کی شکایات کی بنیاد پر کاروائی کر سکے۔ مسٹر رنگا ناتھ نے بتایاکہ اراضیات کی ملکیت میں شکایات پر ’حیدرا‘ سے عہدیدار کو نامزد کرکے فریقین کو طلب کرکے ان کے ادعاجات کے متعلق دستاویزات طلب کئے جاتے ہیں اور شخصی سماعت کرکے دستاویزات کی جانچ کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں قبضہ جات کے متعلق شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد عہدیداروں کی موجودگی میں تفصیلات لی جاتی ہیں تاکہ کسی فریق کی جانب سے شکایت نہ ہو۔ انہوں نے بتایاکہ ویڈیو ریکارڈنگ کا مقصد معاملہ میں شفافیت کی برقراری اور عہدیداروں میں جوابدہی کا احساس برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ’حیدرا‘ جسٹس بی آر گوائی کے سپریم کورٹ فیصلہ پر عمل کرتے ہوئے نالہ ‘ تالاب‘ ریلوے لائن‘ اور سڑکوں پر قبضہ جات کو برخواست کرنے کاروائی کر رہا ہے اور ان کی برخواستگی کیلئے سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق نوٹس کی اجرائی کی ضرورت نہیںہے۔3