پیرس: فرانسیسی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ نیوکیلیڈونیا علاقے میں مظاہرین نے گزشتہ رات ایک پولیس اسٹیشن اور ٹاؤن ہال سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگا دی۔ فرانسیسی بحرالکاہل کا یہ جزیرہ ان دنوں بدامنی کی لہر سے متاثر ہے۔اس جزیرہ نما میں فرانسیسی ریاست کی نمائندگی کرنے والے ہائی کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رات بھر پورے علاقے میں اور پنس اور میری جزیرے پر بدامنی رہی، پولیس پر حملے کیے گئے، آتش زنی کی گئی اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیںجس میں مداخلت کے لیے پولیس کی متعدد کمک طلب کرنی پڑی۔ان پرتشدد واقعات میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے اور 1.5 بلین یورو سے زیادہ کے نقصان کا اندازہ ہے۔فرانسیسی حکومت نے پیرس سے تقریباً سترہ ہزار کلومیٹر دور اس علاقے میں حالات پر قابو پانے کے لیے تین ہزارسے زیادہ فوجی اور پولیس بھیجی ہے۔ میڈیا کے ایک نمائندے نے بتایا کہ حملہ آوروں نے نیو کیلیڈونیا کے دارالحکومت نومیا کے شمال میں واقع ڈیومبیا شہر میں ایک تھانہ اور ایک میونسپل گیراج کو آگ لگادی۔ ان پر قابو پانے کے لیے چار بکتر بند گاڑیوں کی مدد لینی پڑی۔اے ایف پی کے مطابق نومیا کے ڈوکوس اور میجینٹا اضلاع میں بھی کئی مقامات پر آتش زنی کے واقعات پیش آئے جب کہ بوریل میں پولیس اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ متعد علاقوں اور بالخصوص ڈوکوس اور میجنٹا میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شرپسندوں نے میونسپل تھانے کے احاطے میں رکھی ہوئی گاڑیوں اور نجی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی۔
ہائی کمیشن نے مزید بتایا کہ پیتا میں کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ بدسلوکی کرنے، عمارتوں کی توڑ پھوڑ کرنے اور آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مارے میں بھی پولیس پر حملہ کیا گیا۔بدامنی کے واقعات کے مدنظر پیر کی صبح کو کئی شہروں میں متعدد اسکولوں کو بند کردیا گیا۔نیوکیلیڈونیا میں مئی کے وسط میں انتخابی اصلاحات کے ایک منصوبے کے خلاف فسادات اور لوٹ مار شروع ہوئی۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں وہ ایک مستقل اقلیت بن کر رہ جائیں گے اور آزادی کی ان کی امیدیں یقینی طور پران کی دسترس سے باہر ہو جائیں گی۔