فرحان خان سے میری شادی لو جہاد نہیں : مونالیسا

   

ترواننت پورم، 12 مارچ (آئی اے این ایس) حال ہی میں کمبھ میلہ کے دوران سوشل میڈیا پر اپنی خوبصورتی کی وجہ سے وائرل ہونے والی مونالیسا بھوسلے نے جمعرات کو اپنی بین المذاہب شادی کو لو جہاد قرار دینے کے الزامات کو مستردکرتے ہوئے انہیں جھوٹا اورگمراہ کن قرار دیا۔ ریاستی دارالحکومت ترواننت پورم میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مونالیسا نے کہا کہ ان کی شادی کو میڈیا کے بعض حلقوں، خصوصاً کچھ ہندی ذرائع ابلاغ نے غلط انداز میں پیش کیا ہے اور اس میں مذہبی تبدیلی کا بے بنیاد دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلط پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔ معاشرے میں سب برابر ہیں۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے تعلق رکھنے والی مونالیسا نے فرحان خان سے شادی کی، جو مہاراشٹر کے رہنے والے ہیں۔ دونوں نے مونالیسا کے خاندان کی مخالفت کے باعث تحفظ کی درخواست دیتے ہوئے تھمپننور پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ارومانوور شری نینار دیوا مندر میں ان کی شادی کروانے میں سہولت فراہم کی۔ مونالیسا نے بتایا کہ وہ بالغ ہیں اور ان کا اصل نام مونالیسا بھوسلے ہی ہے۔ ان کے مطابق ان کے خاندان نے ان کی کسی اور سے شادی طے کردی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں کی ملاقات تقریباً سات ماہ قبل ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ یہ جوڑا تقریباً ڈیڑھ سال قبل فیس بک کے ذریعے رابطے میں آیا تھا اور بعد میں اس وقت ملا جب مونالیسا ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں پووارآئی تھیں۔ جب خاندان نے اس رشتے پر اعتراض کیا تو دونوں نے پولیس سے تحفظ کی درخواست کی۔ مونالیسا کے والد جے سنگھ بھوسلے کو بھی پولیس اسٹیشن بلایا گیا جہاں حکام نے انہیں بتایا کہ چونکہ مونالیسا کی عمر 18 سال ہو چکی ہے، اس لیے انہیں اپنی پسند سے شادی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ اس موقع پر ایم وی گووندن اور ریاستی وزیر تعلیم وی شیوان کْٹی بھی تقریب میں شریک ہوئے اور بعد میںنئے شادی شدہ جوڑے کو مبارکباد پیش کی۔فرحان خان نے کہا کہ انہوں نے شادی کے لیے کیرالا کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ان کے رشتے کی سخت مخالفت ہو سکتی ہے۔