ملعون راجہ سنگھ کی معطلی برخواست، گوشہ محل سے دوبارہ بی جے پی کا ٹکٹ
حیدرآباد۔22۔اکٹوبر(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملعون رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کرتے ہوئے فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کو منقسم کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔بی جے پی تلنگانہ میں کامیابی حاصل کرنے کے بجائے ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن جب تک ریاست میں فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کو منقسم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اسی لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ دو طرفہ فرقہ واریت کے فروغ کے لئے بی جے پی نے ضروری سمجھا کہ ’جئے اور ویرو‘ کی جوڑی کو بحال کرنے پر ہی ایسا ممکن ہوپائے گا ۔راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کرنے کے فیصلہ کے پس پردہ کس کا مشورہ کارفرما ہے اس پر کئی ہفتوں سے چہ مئیگویاں جاری تھیں اور کہا جا رہاتھا کہ فرقہ وارانہ طور پر رائے دہندوں کو منقسم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھی کوئی شرانگیزی ضروری ہے اسی لئے راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کروایا جاسکتا ہے۔ راجہ سنگھ کی برخواستگی اور اس کو دوبارہ گوشہ محل سے امیدوار بنانے کے فیصلہ کے ساتھ ہی شہر میں انتخابی سرگرمیاں نظر آنے لگی ہیں جبکہ گذشتہ یوم تک بھی شہر حیدرآباد میں انتخابی سرگرمیوں کے نام پر کوئی جلسہ ‘ پیدل دورہ ‘ یا ریالی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی بھی امیدوار یا جماعت کی جانب سے شہر میں انتخابی مہم کے سلسلہ میں کوئی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی تھیں لیکن راجہ سنگھ کی معطلی کو برخواست کئے جانے کے ساتھ ہی شہر میں انتخابی سرگرمیاں ہر دو جانب دیکھی جانے لگی ہیں اور ’جئے اور ویرو‘ کی جوڑی بحال ہوتے ہی سیاسی ماحول گرمانے لگ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے راجہ سنگھ کی بحالی کے سلسلہ میں کافی سرگرم مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ میں شہر حیدرآباد کے ماحول اور سیاسی صورتحال پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے کئی قائدین سے مشاورت کی گئی ۔تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی صدارت کشن ریڈی کے حوالہ کئے جانے کے بعد سے ریاست میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور جماعتوں کے حق میں فائدہ مند فیصلوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔کشن ریڈی جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اچھے تعلقات رکھنے کے معاملہ میں مشہور ہیں اور وہ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر اپنے سیاسی رفقاء کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتے رہے ہیں۔