فلسطینیوں کی تکالیف پر میری ہمدردی ان کیساتھ ہے: رمضان پر بائیڈن کا بیان

   

واشنگٹن: ماہ رمضان کے آغاز پر امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کو مزید امداد پہنچانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور فوری اور پائیدار جنگ بندی کے لیے کام کریں گے۔ایک بیان میں جو بائیڈن نے جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو جس عظیم المیے کا سامنا ہے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے یہ رمضان انتہائی تکلیف دہ لمحہ پہ آیا ہے۔ غزہ کی جنگ میں فلسطینی عوام کو خوفناک مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 30,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔ان میں سے کچھ امریکی مسلمانوں کے خاندان کے افراد ہیںجو آج اپنے پیاروں کے کھو جانے پر بہت غمگین ہیں۔جنگ نے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو خوراک، پانی، ادویات اور رہائش کی اشد ضرورت ہے۔چونکہ دنیا بھر کے مسلمان آنے والے دنوں اور ہفتوں میں افطاری کے لیے جمع ہوں گے، فلسطینی عوام کے دکھ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں سرفہرست ہوں گے۔ میرے خیالات بھی ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ زمین، ہوائی اور سمندری راستے سے غزہ کو مزید انسانی امداد پہنچانے کے مقصد سے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کرتا رہے گا۔ بائیڈن نے نشاندہی کی کہ انہوں نے افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ کے ساحل پر ایک عارضی بندرگاہ قائم کریں جو امداد کی بڑی کھیپ وصول کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم زمینی گزرگاہ امداد کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، جبکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ امداد پہنچانے کے لیے مزید سڑکوں کی سہولت فراہم کرنے اور مزید کراسنگ کھولنے پر اصرار کریں گے۔انہوں نے دو ریاستی حل تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم استحکام، سلامتی اور امن کے طویل المدتی مستقبل کی طرف تعمیر جاری رکھیں گے۔ اس میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے اشتراک کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل بھی شامل ہے۔ یہ آزادی، وقار، سلامتی اور خوشحالی کے مساوی معیارات اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے جبکہ صدر نے امریکی مسلمانوں کے خلاف رونما ہونے والے نفرت انگیز واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ملک میں ہم نے مسلم امریکیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی ایک ہولناک تجدید دیکھی ہے۔