راملہ: فلسطینی صدر محمود عباس نے تحریک فتح اور تنظیم آزادی فلسطین ‘پی ایل او‘ میں اس وقت ہلچل مچا دی جب انہوں نے حیران کن طور پر گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی کے کل 16 گورنرز میں سے 12 گورنروں کو برطرف کرنے کا اعلان کیا۔صدر عباس نے ایک صدارتی حکمنامہ جاری کیا جس میں انہوں نے برطرفی کو ریٹائرمنٹ قرار دیا۔ایوان صدر کے بیان کے مطابق اس فیصلے میں غزہ کی پٹی کے چھ میں سے چار گورنر شامل ہیں۔ ان میں شمالی غزہ کے گورنر صلاح احسان ابو وردہ، غزہ کے گورنر ابراہیم ابو النجا، خان یونس کے گورنر احمد الشیبی اور رفح احمد نصر شامل ہیں۔مغربی کنارے میں برطرف کیے جانے والے گورنروں میں جنین کے اکرم رجوب، نابلس کے گورنر ابراہیم رمضان، قلقیلیہ کے رفیق توفیق رواجنہ، طولکرم کے گورنر عصام ابوبکر، بیت لحم کے کامل حمید، الخلیل الحبرین کے حبرین الیاس البکری، طوباس کے یونس ابراہیم العاص، اور اریحا اور وادی اردن کے گورنر جہاد علی ابو العسل شامل ہیں۔محمود عباس نے صدارتی کمیٹی بنانے کا حکم بھی جاری کیا۔ اس میں “متعدد سرکردہ شخصیات کو شامل کیا جائے گا جو گورنروں کے خالی ہونے والے عہدوں پر موزوں افراد کے تقرر میں صدر کی ہدایات کی روشنی میں کام کریں گی۔