پیرس : فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹرغسان ابو ستہ کو فرانس نے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔فرانس نے اس ممتاز سرجن کا داخلہ اس وقت منع کیا ہے جب جرمنی اس سے قبل ہی ایک سال کے لیے ان کے جرمنی میں داخل ہونے پر پابندی لگا چکا ہے۔برطانوی شہریت کے حامل ممتاز سرجن نے چالیس دن غزہ کی جنگ کے زخمی فلسطینیوں کی سرجری کی رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں وہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ اور جنگی مصائب کے بہت کھلے الفاظ میں تنقید کرتے ہیں۔فرانس میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے حوالے سے ڈاکٹر غسان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر ہوں جہاں مجھے فرانس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔مجھے آج فرانس کی سینیٹ میں بات کرنی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایک سال کے لیے میرے یورپ میں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فرانس کے حکام ڈاکٹر غسان کو فرانس میں داخلے سے روکنے کے باوجود پہلی ہی پرواز سے واپس برطانیہ بھیجنے سے انکاری ہیں بلکہ انہیں آخری پرواز سے واپس برطانیہ بھیجنے پر اصرار کر رہے ہیں۔واضح رہے پچھلے ماہ کے دوران ڈاکٹر غسان کو گلاسگو یونیورسٹی کا ریکٹر منتخب کیا گیا ہے۔