سیول: جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے پر صدر یون سک یول کو عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ عدالت کے 8 ججز نے متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے صدر کے مواخذے کی توثیق کر دی۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مارشل لا کا اعلان اور پارلیمنٹ میں فوج بھیجنا آئین کی کھلی خلاف ورزی تھی، اور یہ اقدام جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ تھا۔عدالت کے مطابق، صدر نے فوج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، جو کہ آئینی عہدے کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کو مختصر مارشل لا نافذ کیا تھا، جس پر اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ ابتدائی طور پر تحریک ناکام ہوئی، مگر دوسری کوشش میں اپوزیشن نے صدر کا مواخذہ منظور کروایا۔فیصلے کے بعد، جنوبی کوریا میں 60 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرائے جائیں گے۔یاد رہے کہ اس سے قبل یون سک یول پر بغاوت کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مارشل لا کی تحقیقات کے دوران انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔