فیروز خان اور دیگر کانگریس قائدین قیامگاہ پر محروس

   

حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور نامپلی انچارج محمد فیروز خان کو آج مسلسل دوسرے دن پولیس نے قیامگاہ پر محروس رکھا اور احتجاج میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ آج صبح سے ہی پولیس فیروز خان کی قیامگاہ کے باہر تعینات تھی اور اُنھوں نے احتجاجی پروگرام میں شرکت سے روک دیا۔ چیف منسٹر کی سالگرہ کے موقع پر کانگریس پارٹی نے احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔ فیروز خان، راشد خان اور دیگر کانگریس قائدین کو پولیس نے گھر پر محروس رکھا اور شام تک نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ اِس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خان نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کا برسر اقتدار آنا یقینی ہے، اُس وقت بے روزگار نوجوانوں کو انصاف ملے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر تانا شاہ کی طرح حکمرانی کررہے ہیں اور اُنھیں دستور پر بھروسہ نہیں ہے۔ فیروز خان نے کہاکہ پولیس کو بھی غیر دستوری کارروائی پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جمہوریت میں اظہار خیال کا حق حاصل ہے لیکن کے سی آر اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سالگرہ کے موقع پر کسی بھی خلل اندازی کو روکنے کے لئے اپوزیشن کو گھروں تک محدود رکھا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں روزگار کے لئے لاکھوں نوجوان پریشان ہیں۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا نہیں ہوا اور کئی مساجد شہید کردی گئیں۔ باوجود اس کے کے سی آر خود کو سیکولر اور مسلم دوست ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ر