فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی 2 سال سے عدم اجرائی

   

3 ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات ، کالجس انتظامیہ کی جانب سے سرٹیفکٹس دینے سے انکار
حیدرآباد ۔ 9 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت کی جانب سے گذشتہ 2 سال سے طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ 3 ہزار کروڑ روپئے بقایا جات ہونے کی وجہ سے کالجس انتظامیہ کی جانب سے سرٹیفکٹس کو روکے رکھا گیا ہے ۔ والدین کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی فیس ادا کی جارہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے 15 لاکھ طلبہ پریشان ہیں ۔ ریاست کے تعلیمی اداروں میں فزیکل کلاسیس کا آغاز ہوگیا ہے ۔ زیر التواء فیس کی ادائیگی کا بوجھ طلبہ اور ان کے والدین و سرپرستوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ ٹیچنگ ، نان ٹیچنگ اسٹاف ، بلڈنگ کے منٹیننس کے لیے کالجس انتظامیہ کی جانب سے بقایا جات کے لیے طلبہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ فیس کی ادائیگی پر ہی سرٹیفکٹس دینے کا دوٹوک انداز میں جواب دیا جارہا ہے ۔ جس سے 15 لاکھ طلبہ پریشان ہیں اور اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے لیے سرٹیفکٹس کا ویریفکشن لازمی ہے ۔ جس کی وجہ سے چند طلبہ کے والدین نے قرض حاصل کر کے فیس ادا کیا ہے ۔ اس قرض کے سود کی عدم ادائیگی پر مالی پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ مزید چند طلبہ سرٹیفکٹس دستیاب نہ ہونے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ دو سال سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی عدم اجرائی سے 3 ہزار کروڑ روپئے سے زائد بقایا جات ہیں پوری رقم کی اجرائی حکومت پر بوجھ ثابت ہونے کا تصور کرتے ہوئے قسطوں میں جاری کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ اس پر بھی عمل آوری نہیں ہورہی ہے ۔ رواں تعلیمی سال تقریبا 13 لاکھ طلبہ نے فیس ری ایمبرسمنٹ کے لیے درخواستیں داخل کی ہیں جس کے لیے 2250 کروڑ روپئے ضرورت ہونے کا عہدیداروں کی جانب سے اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ تعلیمی سال کے آغاز کے ایک ماہ مکمل ہوچکے ہیں مگر فنڈز کی اجرائی کے معاملے میں حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔۔ N