سرچارج و سیس کو ریاستوں کے حصہ میں شامل کرنے وزیر فینانس ہریش راؤ کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے مرکز کی جانب سے وصول کئے جانے والے سیس اور سرچارج مکمل ریاستوں کے ٹیکس حصہ میں شامل کرنے کا مرکزی وزیر نرملا سیتارامن سے مطالبہ کیا ۔ فینانس کمیشن کی سفارش کردہ گرانٹس کو منظور کرکے اس پر عمل کا بھی مطالبہ کیا ۔ تلنگانہ کو وصول طلب بقایا جات فوری جاری کرنے اپیل کی ۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے فنڈز مختص کرنے اور زیر التواء فنڈز فوری جاری کرنے کامطالبہ کیا ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے آئندہ بجٹ کی پیشکشی سے قبل تمام ریاستوں کے وزرائے فینانس سے ویڈیو کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ اس میں حصہ لیتے ہوئے ریاستی وزیر نے مرکز کے فیصلوں سے تلنگانہ کو نقصانات ۔ فنڈز کی کٹوتی ، گرانٹس کی اجرائی میں تاخیر سرچارج و سیس کی شکل میں ریاستوں سے ٹیکس حصہ داری میں نقصانات کے علاوہ دیگر امور نرملا سیتارامن سے رجوع کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکز سے وصول کئے جانے والے سیس اور سرچارج کو ریاستوں کے ٹیکس کی حصہ داری میں شامل نہ کرنے سے ریاستوں کو نقصان ہورہا ہے ۔ انہوں نے سیس اور سرچارج کو بھی ٹیکس کی حصہ داری میں شامل کرکے زیادہ فنڈز ریاستوں کو دینے پر زور دیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ روایت رہی ہے کہ فینانس کمیشن کی گرانٹ سفارشات کو مرکزی بجٹ میں شامل کرکے اس پر مکمل عمل کیا جاتا ہے ۔ مگر ان سفارشات میں چند سفارشات کو مرکزی حکومت قبول نہ کرنے سے ریاستوں کو نقصان ہو رہا ہے ۔ سال 2020-21 کیلئے 15 ویں فینانس کمیشن نے تلنگانہ کیلئے جو سفارشات پیش کی تھی اس پر عمل نہ کرنے کی سے تلنگانہ کو 723 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ ان گرانٹس کو فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کوویڈ کی وجہ سے مالیاتی سال 2021-22 میں بھی ریاستوں کی وجی ایس ڈی پی میں 2 فیصد زیادہ قرض حاصل کرنے کی اسکیم کو غیر مشروط توسیع دینے کا مطالبہ کیا ۔ تقسیم آندھراپردیش قانون کے مطابق پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے گذشتہ اور جاریہ سال کے 900 کروڑ کے بقایاجات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ہریش راؤ نے خواتین تنظیموں کو دئے جانے والی سود رعایت اسکیم صرف 50 فیصد اضلاع کو ملنے کا دعوی کرتے ہوئے اس کو تمام اضلاع میں توسیع دینے کی اپیل کی ۔