حیدرآباد۔/16 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس کمیٹی پونالہ لکشمیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کو سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آئندہ عام انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے لال قلعہ سے سیاسی تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود منی پور کی صورتحال پر بیان نہیں دیا لیکن لال قلعہ سے منی پور میں امن کا دعویٰ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو منی پور کا دورہ کرتے ہوئے عوام میں اعتماد بحال کرنا چاہیئے تھا بجائے اس کے صرف لال قلعہ سے دعوے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی قائدین میں کسی نے بھی منی پور کا دورہ نہیں کیا۔ پونالہ لکشمیا نے کہا کہ کورونا صورتحال کے دوران وزیر اعظم نے صرف تالی بجانے، گھنٹی بجانے، دیپ جلانے کا کام کیا لیکن ان کاموں سے کورونا کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
لاکھوں افراد پیدل اور سیکل پر اپنے آبائی مقامات پہنچنے کیلئے سینکڑوں کلو میٹر کا فاصلہ طئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کورونا کے دوران ویکسین کی تیاری کا حوالہ دیا لیکن لاکھوں افراد کی منتقلی کیلئے حکومت کی مدد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ کورونا کے دوران حکومت نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ پونالہ لکشمیا نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مہنگائی کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول، گیس اور ڈیزل پر ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچائی جاسکتی ہے۔ ملک میں 90 فیصد آبادی غریب اور متوسط طبقات پر مشتمل ہے لیکن حکومت کو ان کی بھلائی کی کوئی فکر نہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور 2 کروڑ جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ مضحکہ خیز ثابت ہوا۔ پونالہ لکشمیا نے کہا کہ گذشتہ 9 برسوں میں بی جے پی نے خواتین تحفظات بل کی منظوری کیلئے کوئی مساعی نہیں کی۔ پارلیمنٹ میں بی جے پی کو واضح اکثریت کے باوجود خواتین تحفظات بل کو نظر انداز کرنا باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں سے انحراف کو روکنے سے متعلق قانون گذشتہ 9 برسوں سے منظوری کا منتظر ہے۔ بی جے پی نے 9 ریاستوں میں عوامی منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرتے ہوئے اپنی حکومت تشکیل دی ہے۔