ف4 فیصد مسلم تحفظات کے تحت میڈیسن میں 1100 امیدواروں کو داخلہ

   


تلنگانہ میں 700 مسلم امیدوار ، تحفظات کا نگریس کا تحفہ : محمد علی شبیر

حیدرآباد۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ایم بی بی ایس کورسیس میں داخلے کیلئے گذشتہ دنوں کونسلنگ کا اختتام عمل میں آیا۔ دونوں ریاستوں میں4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری جاری ہے جس کے نتیجہ میں 1100 مسلم امیدواروں کو دونوں ریاستوں میں سرکاری کوٹہ کے تحت مفت نشست الاٹ ہوئی ہے۔ سابق ریاستی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر محمد علی شبیر نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر فخر محسوس کررہے ہیں کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں 4 فیصد مسلم تحفظات کیلئے ان کی مساعی ثمر آور ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی سال 2020-21 کیلئے ایم بی بی ایس کورسیس میں کونسلنگ کے تحت 700 مسلم امیدواروں کو سرکاری کوٹہ میں میرٹ کی بنیاد پر تلنگانہ میں نشستیں الاٹ کی گئیں جبکہ آندھرا پردیش میں 500 مسلم امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر 4 فیصد تحفظات کے زمرہ میں داخلہ حاصل ہوا۔ دونوں ریاستوں میں 1100 طلبہ کو میڈیکل میں مفت داخلہ کا حصول خوش آئند ہے۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے سبب یہ ممکن ہوپایا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ شمالی ہند کی تمام ریاستوں میں مجموعی طور پر مسلم امیدواروں کو اس قدر نشستیں میڈیسن میں حاصل نہیں ہوئیں جتنی کہ دونوں تلگو ریاستوں میں حاصل ہوئی ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے یہ کانگریس پارٹی کا تحفہ ہے۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے 4 فیصد تحفظات کیلئے میری مساعی اور دلچسپی کو قبول کرتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی کی جس کے فوائد دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کو حاصل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2004 سے آج تک 16000 سے زائد مسلم طلبہ نے میڈیسن کی ڈگری کی تکمیل کی اور ان میں سے 11000 نے مختلف کورسیس میں اسپیشالیٹی کرتے ہوئے ایم ایس اور ایم ڈی کی تکمیل کی ہے۔ مسلمانوں کیلئے یہ کانگریس کا ایک حقیر تحفہ ہے اور ان لوگوں کیلئے ایک جواب ہے جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کانگریس پارٹی نے مسلمانوںکیلئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 فیصد تحفظات کے نتیجہ میں انجینئرنگ کورسیس میں لاکھوں مسلم طلبہ کو فائدہ ہوا ۔ اس کے علاوہ مختلف پیشہ ورانہ کورسیس میں ہزاروں مسلم طلبہ کو تحفظات کے تحت داخلہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم و روزگار میں تحفظات کی فراہمی سے گذشتہ 10 برسوں میں کئی محکمہ جات میں مسلم امیدواروں کو ملازمتیں حاصل ہوئی ہیں۔