قابض یہود نے فلسطینیوں کو شہریت سے محروم کردیا

   

یروشلم ۔ اسرائیلی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مغربی کنارے یا غزہ سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ فلسطینیوں کو شہریت یا رہائش حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ قانون 15 کے مقابلے میں 45 ووٹوں سے منظور کیا گیا اور سردست اسے عبوری قانون کے طور پر لاگو کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ قانون سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نسل پرستانہ بنیادوں پر منظور کیا گیا ہے تاکہ مغربی کنارہ یا غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جائے اور یہودیوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہ سکے۔ دوسری جانب فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی کی مہم کے دوران حماس کے قائدین، ارکان اسمبلی اور دیگر سرکردہ شہریوں سمیت 42 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔فلسطینی امور اسیران کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج نے غرب اردن اور بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کے دوران 42 افراد کو حراست میں لے لیا۔ تلاشی کی کارروائیوں میں گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑاور لوٹ مار کی گئی۔راملہ میں تلاشی کے دوران 10 فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔