قاری سیّد محمد عثمان منصورپوری کی رحلت پر مولانا ارشد مدنی کا اظہارِ رنج و غم، علمی و ملّی دنیا کا ناقابلِ تلافی خسارہ قرار دیا

   

دارالعلوم دیوبند کے معاون مہتمم مولانا سید قاری محمد عثمان منصورپوری کے انتقال پرملال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشدمدنی وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے کہاکہ یہ میرے لئے بہت دکھ کی گھڑی ہے میرے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اپنے دکھ کا اظہار کس لفظوں میں بیان کروں، اور قاری صاحب کے انتقال سے علمی وملی دنیامیں جو خلاپیداہوا اس کی تلافی مشکل ہے۔مولانا مدنی نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں دارالعلوم دیوبند کے بڑے بڑے اساتذہ چھوڑ کر چلے گئے اور آج قاری عثمان صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے۔ قاری صاحب مرحوم نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جامعہ قاسمیہ گیا (بہار) میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس کے بعد ایک زمانہ تک جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ میں رہے، پھر 1982ء میں امروہہ سے دارالعلوم دیوبند آگئے۔ قاری صاحب کو علم حدیث سے خاص شغف تھا اور دارالعلوم یوبند میں ان کے پڑھانے کا موضوع بھی علم حدیث ہی تھا ، ساتھ ساتھ ان کے اندرمعاملہ فہمی ، امانت و دیانتداری بدرجہ اتم موجودتھی…