این نرسمہا ریڈی اور کے پربھاکر طاقتور دعویدار، پی وی نرسمہا راؤ کی دختر کا نام زیر غور
حیدرآباد : گورنر کوٹہ کے تحت تلنگانہ قانون ساز کونسل کی تین مخلوعہ نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں خواہشمندوں کی سرگرمیاں شدت اختیار کرچکی ہیں۔ 7 ستمبر سے اسمبلی اور کونسل کے مانسون سیشن کا آغاز ہوگا اور توقع ہے کہ چیف منسٹر اسمبلی اجلاس سے قبل تینوں نشستوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے دیں گے۔ تینوں نشستوں میں دو ایسی ہیں جن پر موجودہ ارکان کو دوبارہ نامزد کرنے کے امکانات قوی دکھائی دے رہے ہیں۔ سینئر لیڈر اور سابق وزیر این نرسمہا ریڈی کی میعاد جون میں ختم ہوگئی جبکہ 2018 اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے راملو نائک کو رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا جس کے باعث دوسری نشست خالی ہے۔ تیسری نشست گورنمنٹ وہپ کے پربھاکر کی ہے جن کی میعاد جاریہ ماہ ختم ہوگی۔ ٹی آر ایس ذرائع کے مطابق این نرسمہا ریڈی اور کے پربھاکر کو کونسل کے لئے دوبارہ نامزد کیا جاسکتا ہے جبکہ تیسری نشست کے لئے سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کی دختر ایس وانی دیوی کا نام زیر غور ہے۔ این نرسمہا ریڈی کو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ سے محروم رکھا گیا ، لہذا کسی بھی ناراضگی سے بچنے کیلئے کے سی آر انہیں دوبارہ کونسل کی رکنیت دے سکتے ہیں۔ اس نشست کیلئے دیگر دعویداروں میں پارٹی جنرل سکریٹری بسوارج ساریا اور کھمم کے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی شامل ہیں۔ ٹی آر ایس مہیلا وبھاگ کی سربراہ سدھا رانی اور سابق ٹی این جی اوز لیڈر دیوی پرساد بھی دعویداروں میں شامل ہیں۔ پی وی نرسمہا راؤ کی صدی تقاریب کے آغاز کے موقع پر چیف منسٹر نے ان کی دختر وانی دیوی کو کونسل کی نشست فراہم کرنے کے بارے میں قائدین سے مشاورت کی تھی۔ اگر وانی دیوی کے نام کو قطعیت دی جاتی ہے تو کئی دعویداروں کو مایوسی ہوگی۔ تینوں مخلوعہ نشستوں کیلئے اگرچہ کئی دعویدار ہیں لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے امیدواروں کے سلسلہ میں اپنا ذہن بنالیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے آغاز سے قبل کابینہ میں منظوری حاصل کرتے ہوئے ریاستی گورنر کو نام پیش کئے جائیں گے۔