حکومتیں جرائم پیشوں کی طرح سلوک نہیں کر سکتیں، قانون، جمہوریت اور انسانیت کا لحاظ ضروری
نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ہفتہ کے روز ’بلڈوزر انصاف‘ کے خلاف زوردار انداز میں آواز اتھائی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ملک میں ’بلڈوزر انصاف‘ پوری طرح ناقابل قبول ہے، اور یہ بند ہونا چاہیے۔ کانگریس لیڈر نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب مدھیہ پردیش کے چھترپور میں تھانہ پر پتھراو? واقعہ کے ایک ملزم کا گھر بلڈوزر سے منہدم کر دیا۔اپنے پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’اگر کوئی کسی جرم کا ملزم ہے تو اس کا جرم اور اس کی سزا صرف عدالت طے کر سکتی ہے، لیکن الزام لگتے ہی ملزم کے کنبہ کو سزا دینا، ان کے سر سے چھت چھین لینا، قانون پر عمل نہ کرنا، عدالت کی خلاف ورزی کرنا، الزام لگتے ہی ملزم کا گھر منہدم کر دینا… یہ انصاف نہیں ہے۔‘‘پرینکا گاندھی نے ’بلڈوزر انصاف‘ کو بربریت اور ناانصافی کا عروج ٹھہراتے ہوئے بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’قانون بنانے والے، قانون کے رکھوالے اور قانون توڑنے والے میں فرق ہونا چاہیے۔ حکومتیں مجرم کی طرح سلوک نہیں کر سکتیں۔ قانون، آئین، جمہوریت اور انسانیت کا پاس رکھنا مہذب سماج میں حکومت کے لیے کم از کم شرائط ہیں۔ جو حکمرانی کا مذہب نہیں نبھا سکتا، وہ نہ تو سماج کے لیے کچھ بہتر کر سکتا ہے، نہ ہی ملک کے لیے۔دوسری طرف چھتر پور تشدد کے مبینہ مرکزی ملزم حاجی شہزاد علی کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حاجی شہزاد علی کے مطابق گری راج مہنت نے پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی۔ انجمن صدر، انجمن صدر کمیٹی، علماء کمیٹی اور عوام قابل اعتراض بیان کے خلاف احتجاجاً میمورنڈم دینے گئے تھے۔ لوگ پولیس سے گری راج مہنت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔شہزاد علی کے مطابق ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا، ”جب ہمیں کال موصول ہوئی تو ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔ موقع پر ایس ڈی ایم، ڈپٹی کلکٹر اور دیگر افسران موجود تھے۔ اہلکار مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہماری تنظیم 14-15 سالوں سے سماجی خدمت کا کام کر رہی ہے۔ جلوس میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے پتھراو کیا ہو اور صدر رہتے انہوں نے کئی میمورنڈم دئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے پیچھے سازش کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہجوم کی پولیس سے جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے بھیڑ پر لاٹھی چارج کیا۔ لاٹھی چارج کے بعد سماج دشمن عناصر کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔حاجی شہزاد علی کے مطابق ایس ڈی ایم نے کہا کہ عوام آپ کی سنتی ہے۔ میں نے لوگوں کو موقع سے بھگا دیا۔ حاجی شہزاد علی نے کہا کہ ”مجھ پر بھی پتھراؤ کیا گیا، یہ پہلا واقعہ ہے جس نے چھتر پور میں ماحول خراب کیا ہے، ہمارے شہر میں آج تک ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ معاشرے کے تمام طبقے افسران سے مل کر سب کے کام کروانے میں مدد کرتے ہیں۔