عثمان پورہ کے قبرستان میں کانگریس قائدین کی مداخلت پر تدفین کا انتظام
حیدرآباد ۔27۔ مئی(سیاست نیوز) گزشتہ دنوں شہر کے مضافاتی علاقہ میں مسلم قبرستانوں میں تدفین کی اجازت سے انکار پر ایک مسلم میت کو شمشان گھاٹ میں دفن کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ اس واقعہ کے بارے میں ابھی مسلمانوں میں بے چینی برقرار تھی کہ مضافاتی علاقہ ملا پور میں دوسرا واقعہ منظر عام پر آیا جہاں مسلم قبرستانوں کے ذمہ داروں نے مسلم میت کو غیر مقامی ہونے کا بہانے بناکر تدفین کی اجازت نہیں دی۔ بتایا جاتا ہے کہ سلیم الدین صدیقی نامی شخص کو جن کا تعلق ملا پور سے ہے، طبیعت بگڑنے پر عثمانیہ ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا ۔ کئی دن کے علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہوا اور آخری کار کل رات موت واقع ہوگئی۔ متوفی شخص کے بیوی بچے نہیں ہے جس کے سبب رشتہ داروں کو انتقال کی اطلاع تاخیر سے ملی ۔ رشتہ داروں نے میت کی تدفین کیلئے ملا پور کے مقامی قبرستانوں کے ذمہ داروں سے ربط قائم کیا لیکن کسی نے بھی جگہ دینے سے اتفاق نہیں کیا۔ اس صورتحال سے مایوس ہوکر سلیم الدین کے رشتہ داروں نے کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین اور میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر ولی اللہ سے ربط قائم کیا۔ غریب خاندان کے حالات سننے کے بعد کانگریس قائدین نے عثمان پورہ میں واقع بود علی شاہ قبرستان کے متولی سے بات چیت کی اور قبر کے لئے جگہ کا انتظام کرایا۔ کانگریس قائدین نے اپنے ذاتی خرچ سے تدفین کے تمام انتظامات کی تکمیل کی اور متولی درگاہ سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے تدفین کیلئے جگہ فراہم کی ہے۔ سلیم الدین کے رشتہ داروں نے کانگریس قائدین سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ انتقال کے بعد وہ تدفین کے لئے کافی پریشان ہوگئے تھے۔ گزشتہ دنوں مسلم میت کی شمشان گھاٹ میں تدفین کے واقعہ سے وہ خوفزدہ تھے۔ قبرستانوں میں غیر مقامی کہہ کر جگہ دینے سے انکار کیا جارہا تھا ۔ کانگریس قائدین نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے مطالبہ کیا کہ قبرستانوں کے ان متولیوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو قبروں کی تجارت کر رہے ہیں۔