قرض فراہمی میں بینکوں کا متعصبانہ رویہ

   

پرانے شہر کے مکین نشانہ ، فینانسرس کا راج ، عوام پریشان حال
حیدرآباد۔17 فروری(سیاست نیوز) بینکوںکے ذریعہ قرض کی فراہمی کے معاملہ میں بینکوں کی جانب سے اختیار کردہ متعصبانہ رویہ اگرچیکہ مذہبی تعصب کی بنیاد پر بہت کم ہے لیکن علاقائی بنیاد پر قرض کی فراہمی کے معاملہ میں پرانے شہر کے مکینوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پرانے شہر کے مکینوں کو بینکوں کی جانب سے قرض کے لئے داخل کی جانے والی درخواستوں کے دانستہ استردادکے سبب خانگی فینانسرس کو من مانی کا موقع میسر آرہا ہے اور اگر شہر کے اس خطہ میں بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں کئے جانے والے تساہل کو ختم کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں خانگی فینانسروں کی سرگرمیوں پر روک لگائی جاسکتی ہے کیونکہ بینکوں کی جانب سے قرض فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے مکینوں کو ان سود خوروں سے رجوع ہونا پڑتا ہیجو بھاری سود پر قرض کی فراہمی کے لئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے اس علاقہ کو بینکوں نے غیر معلنہ طور پر بلیک لسٹ کیا ہوا ہے اور پن کوڈ دریافت کرنے کے بعد ہی قرض کے لئے دی جانے والی درخواست کو مسترد کردیا جاتا ہے ۔ پرانے شہر میں موجود بینکوں کی جانب سے بھی تجارت اور مکان کی خریدی کیلئے قرض کی عدم فراہمی کے سبب شہری ان سودخوروں کے علاوہ خانگی ہاؤزنگ کمپنیوں کے چنگل میں پھنستے جا رہے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آئے دن شہر میں سود خوروں کی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہاہے لیکن محکمہ پولیس کی چشم پوشی باعث ان کی یہ حرکات منظر عام پر نہیں آرہی ہیں ۔ تجارت کیلئے بینک کے قرض کے لئے رجوع ہونے والے افراد کا کہناہے کہ بینک کی جانب سے کاروائی تکمیل کرنے کے فوری بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انہیں قرض کی منظوری نہیں دی جاسکتی اور اس کے لئے کوئی تحریری وجہ نہیں بتائی جاتی بلکہ یہ کہہ کر انکار کردیا جاتا ہے کہ ان کے پاس دستاویزات کی کمی ہے اور ایسے افراد تجارت کے آغاز کیلئے ان سود خوروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جو انہیں 20تا25 فیصد شرح سود پر قرض فراہم کرتے ہیں ۔شہر میں ایسے کئی فٹ پاتھ تاجرین اور آٹو ڈرائیورس موجود ہیں جو کہ برسوں سے حاصل کئے گئے قرض کا صرف سود ادا کر رہے ہیں اور ان کی اصل رقم کی ادائیگی اب بھی باقی ہی ہے ۔شہر حیدرآباد کی معاشی ترقی کیلئے پرانے شہر کی بھی مجموعی ترقی ناگزیر ہے اور پرانے شہر کی مجموعی ترقی کے بعد ہی حالات میں تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ نئے شہر میں بھی خانگی سود خوروں کی لعنت موجود ہے لیکن نئے شہر میں اس طرح بھاری سود وصول نہیں کیا جاتا بلکہ وہ مائیکرو فینانس کی بنیاد پر چلائے جانے والے کاروبار ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں ۔ پرانے شہر میں چلائے جانے والے غیر قانونی سودی کاروبار پر روک لگانے کیلئے سب سے پہلے بینکوں کے ذمہ داروں کو قرض کی اجرائی کیلئے راضی کرنا ضروری ہے کیونکہ پرانے شہر میں عوام کا بھی بینکوں کی آمدنی اور ان کے کاروبار میں بہتری میں اہم کردار ہے لیکن اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پرانے شہر کے بینک اپنے ہی علاقہ کے شہریوں کی قرض کی درخواستوں کو مسترد کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے بلکہ ان کی جانب سے مسترد کی جانے والی درخواستوں پر وجہ بھی نہیں تحریر کی جاتی کی کہ کس بنیاد پر یہ درخواست مسترد کی گئی ہے ۔ منتخبہ عوامی نمائندوں اور بااثر شہریوں کی جانب سے اگر بینکوں پر دباؤ ڈالا جائے تو ممکن ہے کہ شہر کے اس خطہ میں رہنے والے مکینوں کو درپیش قرض کے حصول کے مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے اور انہیں خانگی سودخوروں کے چنگل سے آزاد کروایاجاسکتا ہے۔م