آئینی عہدوں پر فائز اشخاص کسی بھی مذہب ، زبان ، ذات پات یا خطہ کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جاسکتا : سپریم کورٹ آف انڈیا
حیدرآباد۔26فروری(سیاست نیوز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو آئین کے بنیادی تقاضے قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کسی بھی مذہب ‘ زبان ‘ ذات پات یا خطہ کی بنیاد پر کسی بھی مخصوص برادری کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ایسے وقت جاری کیا ہے جبکہ ملک بھر میں کئی آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے علاوہ سرکردہ قائدین کی جانب سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ کئی طبقات کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔جسٹس اجل بھویان نے اپنے فیصلہ میں واضح کیا کہ سیاسی یا غیر سیاسی افراد خواہ ان کا تعلق سرکار سے ہویا نہ ہو خواہ وہ کوئی ہوں انہیں تقاریر‘ کارٹون‘ میمزیا کسی اور ذریعہ کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی طبقہ یا مذہب کے ماننے والوں کی تضحیک کا اختیار نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا دستور اور آئین کی صریح خلاف ورزی ہوگا۔جسٹس اجل بھویان نے اپنے اس اہم فیصلہ کے دوران سیاسی ‘ عوامی قائدین کے علاوہ ایسے افراد جنہوں نے آئینی عہدوں پر فائز ہیں اور جنہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے ۔سپریم کورٹ نے نیٹ فلیکس پر آنے والی جرائم کی دنیاپر تیار کی گئی فلم ’گھوسخور پنڈت‘ کے خلاف دائر کردہ مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ نیٹ فلیکس پر ریلیز کی جانے والی اس فلم کو روکنے کے لئے داخل کی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس اجل بھویان نے کہا کہ آئین میں درج مقاصد میں سے ایک اہم مقصد شہریوں کے درمیان اخوت وبھائی چارگی کو فروغ دینا ہے اور تاکہ فرد کی عزت ‘ قوم کااتحاد اور ملک کی سالمیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ جسٹس اجل بھویان اور جسٹس بی وی ناگارتھنا پر مشتمل بنچ نے نیٹ فلیکس پر ریلیز ہونے والی فلم کے خلاف دائر کردہ درخواست پر فیصلہ صادر کردیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اس مسئلہ کو یہیں ختم کردیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ملک میں جاری سیاسی قائدین اور دیگر کی جانب سے مختلف طبقات کو نشانہ بنائے جانے کے دور میں اس اہم فیصلہ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذہب یا طبقہ کے خلاف نفرت انگیز تقاریر یا بیانات دراصل دستور ہند کی دفعہ 19(1)میں دی گئی اظہار خیال کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم دفعہ 19(2) کے تحت عائد کی جانے والی معقول پابندیوں کو معقول رکھنا چاہئے ۔ عدالت نے باہمی احترام ‘ بھائی چاہرہ کے فروغ کو ہر شہری کا آئینی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذات ‘ مذہب یا زبان سے بالاتر ہوتے ہوئے ہر شہری کو اپنے اس فریضہ کی ادائیگی کے معاملہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جو کہ قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے لئے ناگزیر ہے۔3