قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ کیلئے کے سی آر کی مشروط تائید

   

کانگریس کی قیادت منظور نہیں، نوین پٹنائک کی طرح تنہا مقابلہ پر غور
حیدرآباد۔12۔مئی (سیاست نیوز) ملک میں بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے کیلئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار کی تازہ ترین کوششوں کے درمیان بی آر ایس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کیلئے مشروط طور پر تیار ہے۔ کے سی آر کی زیر قیادت بی آر ایس نے نتیش کمار کو اس بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن کی قیادت کانگریس کو نہ دی جائے تو وہ اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر کانگریس پارٹی اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرے گی تو بی آر ایس اتحاد کے بغیر تنہا مقابلہ کرے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق نتیش کمار کی جانب سے کے سی آر کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت پر چیف منسٹر نے قریبی رفقاء اور پارٹی قائدین کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔ کیسی آر نے اجلاس میں واضح کیا کہ بی آر ایس قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ میں شمولیت اختیار کرے گی بشرطیکہ اتحاد میں کانگریس شامل نہ ہوں۔ اگر کانگریس پارٹی کو قائدانہ رول دیا گیا تو بی آر ایس اڈیشہ کی بیجو جنتا دل کی طرح انتخابات میں تنہا حصہ لے گی۔ بتایا جاتاہے کہ نتیش کمار جاریہ ماہ کے اواخر میں غیر بی جے پی جماعتوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کا موقف بی آر ایس کے خلاف ہے اور اہم اپوزیشن پارٹی کے طورپر اس نے بی آر ایس کے خلاف مہم چھیڑدی ہے۔ کے سی آر نے کانگریس کے بعض سینئر قائدین تک یہ پیام پہنچایا تھا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو روکنے کیلئے وہ کانگریس کے ساتھ مفاہمت کیلئے تیار ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے مفاہمت میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے ایک سے زائد مرتبہ واضح کردیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمار کے اجلاس میں کے سی آر اپنے نمائندہ کے طور پر ورکنگ صدر کے ٹی آر کو روانہ کریں گے۔ قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ کے خلاف میں تلنگانہ کی صورتحال بی آر ایس کیلئے اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نتیش کمار اس صورتحال پر کس طرح قابو پائیں گے۔ر