لائف سائنسیس کے شعبہ میں حیدرآباد کی عالمی مرکز کے طور پر شناخت

   

بائیو ایشیاء 2026 کا آغاز، وزیر آئی ٹی سریدھر بابو کا خطاب
حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے کہاکہ تلنگانہ حکومت حیدرآباد کو مستقبل کی لیباریٹری کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بائیو ایشیاء 2026ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ تلنگانہ میں لائف سائنسیس کے شعبہ میں 2030ء تک 25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور 5 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں بائیو ایشیاء کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ حکومت حیدرآباد کو ہر شعبہ میں ترقی کے مرکز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ لائف سائنسیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں حیدرآباد میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2030ء تک 25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعہ نوجوانوں کے لئے 5 لاکھ نئے روزگار فراہم کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت نے تلنگانہ لائف سائنس پالیسی 2026-30ء کو قطعیت دی ہے۔ تلنگانہ میں لائف سائنسیس کے 3 کلسٹرس کے قیام کا منصوبہ ہے۔ فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں تلنگانہ کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے سریدھر بابو نے کہاکہ ویاکسن کی تیاری اور سربراہی میں تلنگانہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مینوفیکچرنگ کے مرکز کے علاوہ گلوبل سنٹر کے ذریعہ ریسرچ اور اڈوانسڈ ڈرگ ڈسکوری پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد واحد ہندوستانی شہر ہے جہاں لائف سائنسیس کا عالمی ایکو سسٹم قائم کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد کو گلوبل میڈیکل ٹورازم ہب کے طور پر ترقی دینے کے لئے حکومت نے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ سریدھر بابو نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں لائف سائنسیس اور فارماسیوٹیکل شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے ذریعہ حکومت کے منصوبہ کو کامیاب کریں۔1