پاکستانی ایجنسیاں کسی بڑے دہشت گرد حملے کیلئے بے چین، دراندازی کویقینی بنانے کی کوشش
نئی دہلی ۔ 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں عہدیداروں نے کہا ہیکہ موسم سرما کے آغاز سے قبل پاکستان نے متعدد دہشت گردوں کی ہندوستان میں دراندازی کو یقینی بنانے کی اضافہ شدہ کوششوں کے ایک حصہ کے طور پر لائن آف کنٹرول کے قریب کم سے کم 20 دہشت گرد کیمپ اور حملوں کے دیگر 20 اڈوں کو متحرک کردیا ہے۔ رواں سال فروری میں پلوامہ میں سی آر پی ایف کی بس پر دہشت گرد حملہ اور جواب میں بالاکوٹ میں انڈین ایرفورس کے سرجیکل حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کردہ دہشت گرد کیمپس دوبارہ قائم کئے گئے ہیں۔ ہر ایک دہشت گرد کیمپ میں کم سے کم 50 دہشت گرد ہیں۔ دفعہ 370 کی تنسیح کے بعد سے پاکستانی ایجنسیاں جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں کیلئے بے چین ہیں۔ ایک سیکوریٹی عہدیدار نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا اور کہا کہ حالیہ عرصہ کے دوران دہشت گرد کوئی بڑا حملہ نہیں کرسکے۔ پاکستانی ایجنسیاں اب ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ دہشت گردوں کو جموں و کشمیر بھیجنا کی انتھک کوشش کررہی ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر کم سے کم 20 دہشت گرد کیمپس اور دیگر 20 حملوں کے اڈوں کو دوبارہ متحرک کردیا ہے اور موقع ملتے ہی دہشت گردوں کی ہند میں دراندازی کو یقینی بنانے کیلئے بے چین ہیں۔ جموں و کشمیر کے ڈائرکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے کہا ہیکہ اس ریاست میں 200 تا 300 دہشت گرد سرگرم ہیں۔ سنگھ نے کہا کہ کشمیر اور جموں دونوں ہی علاقوں میں جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔