مساجد کمیٹیوں کی غفلت کی نشاندہی پر کارروائی متوقع ، محکمہ پولیس بھی مصروف تحقیقات
حیدرآباد۔10اپریل(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کی مساجد میں آج تیسرا جمعہ گذر گیا جب جمعہ کیلئے کوئی بڑا اجتماع منعقد نہیں ہوا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآبادکی تمام مساجد میں گذشتہ تین جمعہ کی طرح صورتحال جوں کی توں رہی اور محدو د مصلیوں کو مساجد میں نماز کی اجازت دی گئی اور مساجد سے ہی اذان کے ساتھ اس بات کا اعلان کردیا گیا کہ لوگ کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر نماز ظہر اپنے گھروں میں ادا کریں اور جمعہ کیلئے مساجد کا رخ نہ کریں۔ دونوں شہر وں کی بعض مساجد میں جمعہ کے انعقاد کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں اور ان کے متعلق محکمہ پولیس نے کاروائی کا ذہن بھی تیار کرلیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے مطابق ریاست تلنگانہ کے کسی بھی علاقہ میں اجتماع کی اجازت قطعی نہیں ہے اور نہ ہی مذہبی اجتماعات کی اجازت ہے ۔ شہر حیدرآباد میںسرکردہ علمائے اکرام نے مشاور ت کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنے سے قبل اجلاس منعقد کرتے ہوئے کوروناوائرس کی وباء سے محفوظ رہنے کیلئے مساجد میں محدود تعداد میں مصلیوں کو اجازت دینے کی سفار ش کرتے ہوئے شہریان تلنگانہ سے خواہش کی تھی کہ وہ نماز جمعہ کے بجائے گھروں میں نماز ظہر کی ادائیگی کو ترجیح دیں اسی طرح نماز پنجگانہ کے لئے بھی مسجد کو آنے سے گریز کریں اور گھروں میں نمازوں کے اہتمام کو یقینی بنائیں ۔ علمائے اکرام کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے پیش نظر ریاستی حکومت کی جانب سے مساجد کو مقفل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ مساجد میں اذانوں کی اجازت اور باجماعت نماز کی اجازت حاصل ہے لیکن تعداد کو محدود رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جمعہ کے دن شہر کی 95 فیصد مساجد میں نماز جمعہ محدود تعداد میں مصلیوں کے ساتھ ادا کی گئی اور مختصر خطبہ جمعہ اور نماز کا اہتمام کیا گیا۔ دونوں شہروں کے بعض علاقو ںمیں مساجد کی کمیٹیوں کی جانب سے کی جانے والی غفلت کے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کے متعلق وقف بورڈ کو مطلع کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان مساجد کی کمیٹیوں کی تنسیخ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے احکامات کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے گا اور حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں وقف بورڈ کو ہدایا ت جاری کرتے ہوئے ان مساجد کی کمیٹیوں کے خلاف کاروائی کی ہدایت دی جائے گی جن مساجد کی کمیٹیوں کی جانب سے حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور علمائے اکرام کے مشورہ و ہدایات کے باوجود مساجد میں بڑے اجتماعات منعقد کئے جا رہے ہیں۔