مرکز کے ناقص معاشی پیاکیج سے ملازمین کو فائدہ نہ ہوا کنٹراکٹ والے ملازمین کی نوکریوں کو زیادہ خطرہ
حیدرآباد۔20 مئی (سیا ست نیوز) لاک ڈاؤن کے سبب نقصان کا شکار کمپنیو ںکی جانب سے اخراجات کی کمی کیلئے ملازمین کو معطل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور انہیں خدمات سے برطرف کرتے ہوئے یہ کہا جار ہاہے کہ موجودہ حالات میں کمپنیاں ان کے مشاہرہ کی ادائیگی کے متحمل نہیں ہیں اسی لئے وہ ملازمین کو برطرف کرنے پر مجبور ہیں۔ملک بھرمیں جاری لاک ڈاؤن کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کمپنیوں نے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو فوری اثر کے ساتھ برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کمپنیوںکی جانب سے نقصانات میں کمی کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات سے انہیں کسی بھی طرح کی قانونی رسہ کشی کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا اور اگر ایسی نوبت آتی بھی ہے تو وہ اس کا سامنا کرنے تیار ہیں لیکن کمپنیوں کے اخراجات میں کمی لانا ان کیلئے ناگزیر ہوچکا ہے۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران کئی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو خدمات سے ہٹائے جانے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں جن میں اوبر کے ملازمین کی خدمات کی برخاستگی کی خبربھی شامل ہے
اور گذشتہ یوم اولا نے اپنے 1400 ملازمین کی خدمات کو برخاست کردیا ہے اسی طرح آئے دن ائیر لائنس کی جانب سے اس بات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ فضائی کمپنیوں کی جانب سے بھی کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو ختم کیا جارہا ہے اور ان کی جگہ مستقل ملازمین سے کام لینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ان خانگی کمپنیوں کے علاوہ سرکردہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے بھی اپنے ملازمین کو خدمات سے ہٹائے جانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ کمپنیوں کو اپنی بقاء کے لئے اخراجات میں کٹوتی لازمی ہوچکی ہے ۔ لاک ڈاؤن کے تسلسل کے دوران اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ان فیصلوں کے سبب بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگا اور ان حالات سے معیشت تباہ ہوتی چلی جائے گی۔ملٹی نیشنل کمپنیو ںمیں ملازمت کے لئے انٹرویو منعقد کرنے والے ادارو ںاور ایجنسیوں کا کہناہے کہ اگر کمپنیوں کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو ختم کیا جا رہاہے اور ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں کمپنی کی مالی صورتحال کا اندازہ ہوتاچلا جائے گا اور کمپنی کے سرمایہ کارو ںکی جانب سے ہی کمپنی کا مستقبل طئے کیا جائے گا۔ کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی برطرفی کی وجوہات کے متعلق ماہرین کاکہناہے کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے منظم اندا ز میں معاشی پیاکیج جاری کیا جاتا اور اس کے راست فائدے ملازمین کو فراہم کئے جاتے تو انہیں ملازمتوں سے محروم ہونا نہیں پڑتا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والی معاشی پیاکیج سرکردہ کمپنیوں کے لئے فائدہ مند ہے اور ملازمین کو اس میں کوئی راحت نہیں پہنچائی گئی ہے جس کی وجہ سے آجرین ملازمین کو برطرف کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔