اورنگ آباد : کورونا وائرس وباء اور اس کے بعد لاک ڈاؤن کے سبب اپنی گذر بسر کے ذرائع سے محروم ایک جوڑا راشن کی خریداری کے لیے اپنی بعض قیمتی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ مہاراشٹرا کے اورنگ آباد شہر میں موتی کا رانجھا علاقہ کے ساکن محمد ہارون کئی مہینوں سے بے روزگار ہیں اور آمدنی کا کوئی دیگر ذریعہ نہیں ۔ چنانچہ وہ اور ان کی اہلیہ گھر کے حالات کو دیکھتے ہوئے چند قیمتی اشیاء بیچنے لگے ہیں ۔ انہوں نے 6 ماہ قبل ایل پی جی بچت کے لیے ایک انڈکشن کوک ٹاپ خریدا تھا جسے اب وہ بیچ دینے پر مائل ہیں ۔ 37 سالہ ہارون شیندرا انڈسٹریل ایریا کی ایک کمپنی میں ہیلپر کے طور پر کام کرتا تھا ۔ لاک ڈاؤن کی ابتدائی مدت میں وہ اپنی نوکری سے محروم ہوگیا ۔ ہارون نے بتایا کہ 4 ماہ تک کسی طرح اناج وغیرہ کی خریداری کر پایا اور بعد میں رشتہ داروں نے مدد کی ۔ لیکن اب راشن ختم ہورہا ہے اور انہیں کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنا ہے ۔ 12ویں جماعت کامیاب ہارون کی بیوی بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی تاکہ کچھ آمدنی میں اضافہ ہو ۔ اردو میڈیم اسکولوں کے بچے ہارون کے گھر رجوع ہوا کرتے تھے لیکن جیسے ہی وباء پھوٹ پڑی ، بچوں نے ٹیوشن کیلئے آنا بند کردیا ۔ دو بچوں باپ ہارون نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے قبل انہیں ماہانہ 15 ہزار روپئے کی کمائی ہو جاتی تھی لیکن اب آمدنی صفر ہے ۔ وہ گھر کے کرایہ کی ادائیگی کیلئے اپنی بیوی کے زیورات بھی بیچنے پر مجبور ہوا ۔ اور اس کے بعد اب گھر کی بعض قیمتی اشیاء کو فروخت کرنے کی باری آگئی ہے ۔۔