ملبوسات کی جگہ اجناس کا انتخاب ہو، حکومت اور عوامی نمائندے توجہ دیں
حیدرآباد 18 اپریل (سیاست نیوز) کورونا وائرس کے خطرہ سے نمٹنے کے لئے رمضان المبارک میں مساجد کو افطار اور تراویح کے لئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں علماء اور مفتیان کرام حکومت سے مکمل تعاون کررہے ہیں۔ 25 مارچ کو 21 روزہ لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے مسلمان مساجد میں پنج وقتہ نمازوں حتیٰ کہ جمعہ کے لئے بھی جانے سے گریز کررہے ہیں۔ علمائے کرام اور مسلم قائدین کی اپیلوں کا مسلمانوں پر مثبت ردعمل ہوا۔ اِس حقیقت کو دیکھتے ہوئے حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ رمضان المبارک میں غریب اور مستحق مسلمانوں کی فکر کرے۔ لاک ڈاؤن کی پابندیوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں مسلمان حکومت سے مکمل تعاون کررہے ہیں لہذا رمضان المبارک کے موقع پر سرکاری افطار پارٹی پر خرچ ہونے والی رقم میں مزید رقم کا اضافہ کرتے ہوئے غریبوں کے لئے رمضان گفٹ پیاک کا انتظام کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے رمضان میں مسلمانوں کو مساجد جانے سے روکنے کی مہم تو جاری ہے لیکن سرکاری سطح پر ہر سال دیئے جانے والے رمضان گفٹ پیاک کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ ہر سال مساجد میں حکومت کی جانب سے افطار اور طعام کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔ اِس کے علاوہ تقریباً 2 لاکھ غریبوں میں رمضان گفٹ پیاک تقسیم کئے جاتے رہے۔ گفٹ پیاک میں ایک خاندان کے لئے ملبوسات ہوتے ہیں۔ اب جبکہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں غریب اور متوسط طبقات پریشان حال ہیں اور غریب خاندان معاشی بدحالی کے نتیجہ میں فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ معاشی اعتبار سے کمزور اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے غریب، معذور، مزدور، بیوائیں اور فقراء کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے جو اپنے خاندان کے لئے ایک وقت کے کھانے کا انتظام کرنے کے موقف میں نہیں۔ بھوک اُن کا مقدر بن چکی ہے۔ اہل خیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اناج اور غذا کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جاریہ سال رمضان المبارک کے موقع پر ملبوسات پر مشتمل گفٹ پیاک کے بجائے راشن کٹس کو رمضان گفٹ کے طور پر تقسیم کرے۔ ہر مسجد میں کم از کم 250 راشن کٹس تقسیم کئے جائیں تاکہ غریب عہدیداروں کو صحر اور افطار میں سہولت ہو۔ رمضان گفٹ کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود میں علیحدہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ اِس بجٹ میں چیف منسٹر کی دعوت افطار کے اخراجات کو بھی جوڑ لیا جائے تو ریاست بھر میں کئی لاکھ غریب اور مستحق روزہ داروں میں راشن کٹس تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ داروں اور عوامی نمائندوں کو اِس جانب توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔