واقعہ کے خلاف دونوں شہروں اور ریاست کے دیگر مقامات پر سکھوں کے احتجاجی مظاہرے
حیدرآباد ۔ 5 جنوری ۔ ( پریس نوٹ) لاہور میں تاریخی گردوارہ ننکانہ پر حملہ اور ایک ہجوم کے سکھ عقیدت مندوں پر پتھراؤ کے خلاف سکھوں نے اتوار کو دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد اور ریاست کے دوسرے مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ تلنگانہ میں رہنے والے سکھوں نے گردوارہ ننکانہ صاحب پر تباہی اور بے حرمتی کی حرکتوں کی مذمت کی اور حکومت پاکستان پر زور دیا کہ سکھ کمیونٹی کی سیفٹی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں اقلیتی سکھ کمیونٹی کے افراد کو ننکانہ صاحب کے مقدس شہر میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ احتجاجی سکھوں نے حکومت پاکستان کے خلاف نعرے بلند کئے ۔ سکھوں کی ایک بڑی تعداد نے سنٹرل گردوارہ صاحب گولی گوڑہ ، امیرپیٹ ، سکندرآباد ، سکھ چھاؤنی عطاپور ، نظام آباد ، کریم نگر اور ریاست کے دوسرے مقامات پر جمع ہوکر اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سکندرآباد میں کینر ہائی اسکول کے قریب کئے گئے ا حتجاج کے دوران گردوارہ صاحب گرو سنگھ سبھا کے صدر ایس گروچرن سنگھ نے کہاکہ وہ لوگ جو کئے ہیں وہ قابل مذمت ہے پاکستانی وزیراعظم کو اس کی مذمت کرنی چاہئے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے ۔ گردوارہ صاحب امیرپیٹ کے صدر ایس بھگیندر سنگھ نے امیرپیٹ سے نکالی گئی احتجاجی ریالی کے دوران کہا کہ ’’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔ وہ لوگ ہمارے بچوں کا اغواء کرتے ہیں اور ان کا مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس طرح کے واقعات کا سدباب کرنا چاہئے ‘‘۔