لبنان میں ایک حل کے قریب ہیں، غزہ میں ابھی تک مقاصد حاصل نہیں ہوئے: اسرائیلی وزیر

   

تل ابیب : اسرائیلی سکیورٹی حکومت کے وزیر بینی گانٹز نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ابھی تک غزہ کی جنگ میں اپنے اہداف حاصل نہیں کیے لیکن اسرائیل ان اہداف کو حاصل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔گانٹز نے کنیسٹ میں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم غزہ میں حماس کی حکومت کی جگہ ایک متبادل حکومت بنانے پرعزم ہیں۔ یہ ایک فیصلہ کن مشن ہے جو غزہ میں جنگ کے دو مقاصد کیلئے ہے۔ ان میں اپنے یرغمالیوں کو واپس لانا اور حماس کی حکومتی اور فوجی صلاحیتوں کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی سرحد سب سے بڑے چیلنج کا میدان ہے۔ ہم لبنان میں فیصلہ کن موڑ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔بینی گانٹز نے زور دیا کہ جو وزرا اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں انہیں ہماری سکیورٹی حکومت میں نہیں رہنا چاہیے۔ اسرائیل کی منی سکیورٹی حکومت میں 14 وزراء شامل ہیں جن میں قومی سلامتی وزیر بین گویر اور وزیر خزانہ سموٹریچ بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں وزراء نتن یاہو اور گانٹز کے ساتھ الزامات کا تبادلہ کرتے آ رہے ہیں۔ بین گویر نے اس سال کے آغاز میں گانٹز پر سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام تک لگا دیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے انکشاف کیا کہ اسرائیل جلد غزہ میں حماس کے خلاف اضافی حملوں کی ہدایت کرے گا اور یہ حملے بہت تکلیف دہ ہوں گے۔ آئندہ دنوں میں ہم حماس پر فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھائیں گے۔یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب غزہ خاص طور پر جنوبی شہر رفح پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان مہینوں سے جاری جنگ میں کسی جنگ بندی تک پہنچنے کے امکان کے اشارے نہیں ملے ہیں۔غزہ کے جنوب میں رفح میں دو گھروں پر اسرائیلی حملے میں اتوار کو کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ حماس کی وزارت صحت نے بتایا کہ اتوار کی صبح تک پٹی میں 24 گھنٹوں کے اندر 48 افراد مارے گئے ہیں۔