نئی دہلی ۔ ہندوستان نے آج کہا کہ مشرقی لداخ میں گذشتہ چھ مہینوں سے جو فوجی تعطل چل رہا ہے وہ در اصل چین کے اقدامات کا نتیجہ ہے ۔ چین چاہتا ہے کہ لائین آف کنٹرول کے موقف کو یکطرفہ طور پر تبدیل کردیا جائے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے میڈیا سے آن لائین تبادلہ خیال میں یہ ریمارک کیا جب ان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی تھی کہ چین کی وزارت خارجہ نے سرحدی کشیدگی کیلئے ہندوستان کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ خارجہ سکریٹری نے کہا کہ ہمارا موقف بہت واضح ہے اور اسے ماضی میں کئی مرتبہ واضح کیا جاچکا ہے کہ گذشتہ چھ مہینوں میں سرحد پر جوکشیدگی پیدا ہوئی ہے اور جو فوجی تعطل پیدا ہوا ہے وہ چین کی حرکتوں کا نتیجہ ہے۔ چین یکطرفہ طور پر لائین آف کنٹرول کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان کو اسی پر اعتراض ہے ۔ واضح رہے کہ کل وزارت خارجہ چین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مشرقی لداخ میں کشیدگی کیلئے ایک بار پھر ہندوستان کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ ہندوستانی ترجمان نے کہا کہ ہم نے چین کے بیان کا نوٹ لیا ہے اور ہم سجھتے ہیں کہ تمام تنازعات اور اختلافات کو حل کرنے باہمی معاہدات سے مدد لی جاسکتی ہے ۔ ہندوستان اور چین کی افواج کے مابین لداخ میں سرحد پر کشیدہ صورتحال ہے ۔