للت مودی قانون سے بالاتر نہیں،غیر مشروط معافی مانگنی ہوگی

   

عدلیہ کے خلاف تبصرہ پر سپریم کورٹ کی شدید ناراضگی

نئی دہلی :آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کی آج سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سرزنش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ ناراضگی للت مودی کے کل عدلیہ کے خلاف کیے گئے ایک تبصرہ پر ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں بغیر کسی شرط کے معافی مانگنی ہوگی۔ جسٹس ایم آر شاہ اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ للت مودی ہندوستانی قانون اور آئین سے بالا تر نہیں ہے۔ عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے پر سپریم کورٹ نے انھیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سرکردہ اخبارات کے ذریعہ معافی مانگنے کی ہدایت دی ہے۔سپریم کورٹ نے للت مودی کو معافی مانگنے سے پہلے ایک حلف نامہ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس حلف نامہ میں وہ اس بات کی حامی بھریں کہ مستقبل میں وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے اور ہندوستانی عدلیہ کی شبیہ کو داغدار کرنے والی کوئی پوسٹ نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ للت مودی نے ایک دن پہلے ہی عدلیہ کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا۔ اس ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’’یہ صاف کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ دلال جھوٹ پھیلا کر ہندوستان اور وہاں کی عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دکھاوے کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ فکسنگ کے ذریعہ پیسے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔‘‘ حالانکہ یہ نہیں ظاہر ہو سکا کہ للت مودی نے یہ ٹوئٹ کس پس منظر میں کیا تھا۔