پیر کو تلنگانہ اور اے پی سمیت96حلقوں میں رائے دہی
نئی دہلی :لوک سبھا انتخابات 2024 کے چوتھے مرحلے میں کل 96 سیٹوں پر 13 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے، اس مرحلے میں پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لئے مقابلہ کرنے والے کچھ بڑے نام میدان بھی ہیں۔ اتر پردیش کے قنوج میں جہاں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو میدان میں ہیں وہیں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا مغربی بنگال کی کرشنا نگر سیٹ سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ رائے دہندگان مرکزی وزیر گری راج سنگھ کی قسمت کا بھی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ آندھرا پردیش کی تمام 25 نشستوں کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کی 17، اتر پردیش کی 13، مہاراشٹرا کی 11، مغربی بنگال کی 8، مدھیہ پردیش کی 8، بہار کی 5، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کی 4‘4 اور جموں و کشمیر کی ایک نشست پر چوتھے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ آندھرا پردیش کی تمام 175 سیٹوں اور اڈیشہ کی 147 میں سے 28 سیٹوں کے لیے بھی پیر کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔ کئی سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ رہنما ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے مختلف حلقوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے دیکھے گئے۔ وزیر اعظم اور سینئر بی جے پی لیڈر نریندر مودی نے آج کہا کہ 4 جون کو عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد کانگریس لوک سبھا میں ایک تسلیم شدہ اپوزیشن پارٹی کے طور پر ختم ہو جائے گی۔ آج صبح اڈیشہ کے کندھمال ضلع کے پھولبانی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا اورکہا کہ بی جے پی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اس الیکشن میں 400 سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں جیت لے گا اور کانگریس پارٹی 50 سے کم سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی کمزور ذہنیت کی وجہ سے جموں و کشمیر کے لوگوں نے دہائیوں تک جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان وہ وقت کبھی نہیں بھولے گا جب ملک میں اکثر دہشت گردانہ حملے ہوتے تھے اور کانگریس لیڈر دہشت گردی کے مرتکبوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔