لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت اور مبینہ تبدیلی مذہب کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت

   

نئی دہلی: لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت اور مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہورہے تبدیلی مذہب کے خلاف داخل پٹیشن پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی، چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس نرسہما اور جسٹس جے پی پاردی والا کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول اوردیگر پیش ہوئے۔دیگر فریقوں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، دشینت دوے، سی یو سنگھ، اندرا جئے سنگھ، ورندہ گروور ودیگر بھی پیش ہوئے۔جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا پیش ہوئے۔ کل عدالت نے صرف جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن پر نوٹس جاری کیا اور سماعت کے لے قبول کرلیا ۔