شملہ: ہماچل پردیش حکومت نے لینڈسیلنگ ایکٹ کے ضوابط میں ترمیم کیلئے منظوری دے دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سکھوندر سکھو کی صدارت میں دیر رات ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اس اثر کو منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اسی میٹنگ میں کلاس III کے 20 ہزارعہدوں پر بھرتی کا عمل شروع کرنے کو منظوری مل گئی ہے ۔ سکھو نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے اداروں کو سولرپروجیکٹس لگانے کیلئے اب صنعتوں کے خطوط پر کوئی لینڈ سیلنگ نہیں رہے گی۔ ریاست میں لینڈ سیلنگ ایکٹ کے تحت 150 بیگھہ سے زیادہ زمین نہیں لی جاسکتی ہے ۔ سولر پروجیکٹس کے لیے اس میں ان اداروں کو چھوٹ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف محکموں میں مختلف کیٹیگریز کی ہزاروں آسامیاں بھرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ ہماچل پردیش میں، صنعت لگانی ہو یا کوئی اور مجاز کام کرنے ہوں، ان کیلئے اب 99 نہیں، 40 سال کی لیز پرہی زمین ملے گی۔کابینہ نے اس کیلئے ہماچل پردیش پبلک سروس کمیشن کو اختیار دے دیا ہے ۔ کابینہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے اداروں کو سولرپروجیکٹس لگانے کیلئے اب صنعتوں کی طرزپرکوئی لینڈ سیلنگ نہیں رہے گی۔