مائیں دیندار ہو جائیں تو اولاد ولی پیدا ہوں گے

   

سداسیوپیٹ میں جلسہ تکمیل حفظ قرآن مجید سے مولانا پی ایم مزمل رشادی و دیگر علماء کا خطاب
سدا سیو پیٹ۔ 23 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مدرسہ عربیہ عثمانیہ کی جانب سے ایس اے گارڈن فنکشن ہال نزدیک مسجد ھانیہ سداسیوپیٹ میں جلسہ عام بہ عنوان استقبال رمضان المبارک و موجودہ حالات میں دینی عصری تعلیم کی اہمیت منعقد ہوا. اس جلسے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے حضرت مولانا پی ایم مزمل رشادی (بنگلور) نے شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ماں دیندار ہو جائے تو ان کی کوکھ سے وقت کے ولی پیدا ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین سے بالخصوص خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین خود بچوں کے پیدا کرنے کے لئے رکاوٹ بن رہی ہے تو پھر یہ کیا اللہ کے ساتھ مقابلہ نہیں ہے۔ پیغمبر کے فرمان کے ساتھ دشمنی نہیں ہے. اللہ تعالی نے فطری طور پر عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی تربیت دینی انداز میں کرنے کی بھی تلقین کی ہے کیونکہ بچوں کا اولین مدرسہ ماں کی گود ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دن بدن دینی مدرسوں میں طلبہ و طالبات کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ دور حاضر میں دینی مدرسوں کو چلانے کے لیے دوسری ریاستوں سے طلبہ کو لانا پڑ رہا ہے۔انہوں نے تکمیل حفظ کرنے والے طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔ مولانا رومی قاسمی کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز کیا گیا اور نعتیہ نذرانہ مظفر نگر اتر پردیش سے تشریف لائے مولانا احسان محسن قاسمی نے پیش کیا اور مقامی نعت خواں محمد سلمان سلطان نے بھی اپنی نعت سنائی۔ جلسے کی صدارت مفتی ابوبکر جابر قاسمی اور نگرانی الحاج محمد عادل احمد خان حیدرآباد ، الحاج محمد صوفی بانی مدرسہ ہذا نے کی۔ حافظ محمد شفیع الدین منہاجی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مہمانوں کے ہاتھوں مدرسے ہذا سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی بھی کی گئی۔ اس جلسے میں مقامی علماء و حفاظ کرام کے علاوہ اولیائے طلبہ و طالبات طلبہ اور برادران اسلام کی کثیر تعداد موجود تھی۔