مالیاتی اور بینکنگ سیکٹرز پر سے پابندیاں ہٹ جائیں گی: طالبان

   

دوحہ کانفرنس کے دوران بھی بیشتر ممالک نے افغانستان کے مالیاتی اور بینکنگ سیکٹرز پر عالمی پابندی ہٹانے کی حمایت کی تھی

ماسکو: روس نے اشارہ دیا کہ ماسکو طالبان پر سے پابندیاں ہٹا سکتا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ کانفرنس کے دوران بیشتر ممالک نے افغانستان کے مالیاتی اور بینکنگ سیکٹرز پر عائد عالمی پابندیوں کو ہٹانے کی حمایت کی۔افغانستان کی صورتحال اور طالبان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے غور و خوض کیلئے قطر میں تیس ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے جمع ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کی زیر قیادت ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں پہلے طالبان نے شرکت سے انکار کیا تھا جس کے بعد ان کی چند شرائط کو ماننے کے بعد ان کا وفد اجلاس میں شریک ہوا۔ یہ پہلی بار ہے کہ طالبان نے افغانستان سے متعلق کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ ان اجلاسوں کا سلسلہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے شروع کیا ہے جسے ‘دوحہ پروسیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کانفرنس کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ دوحہ کانفرنس کے دوسرے روز افغانستان کے مالیاتی اور بینکنگ کے شعبہ جات پر عائد عالمی پابندیوں کو ہٹانے کی حمایت کی گئی۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ او ائی سی، امریکہ، ترکمانستان، قرغزستان، قزاقستان، پاکستان، ایران، چین اور روس کا موقف قابل تحسین رہا ہے۔ اس سے قبل افغانستان کی وزارت خارجہ کے سینیئر عہدیدار ذاکر جلالی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ طالبان حکومت کا وفد پیر کو ہونے والی ملاقاتوں کو مالیاتی اور بینکنگ سیکٹر پر پابندیوں اور ان سے افغانستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے استعمال کرے گا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا،”دوحہ کے اس اجلاس میں ہماری شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے تحفظات کے باوجود امارت اسلامیہ افغانستان میں مثبت اقدامات کیلئے پرعزم ہے۔