مالیگاؤں دھماکہ کیس کی کیمرہ ریکارڈنگ میں سماعت سے عدالت کا انکار

   

سماعت کی شفافیت برقرار رکھنے کا فیصلہ ، گواہوں کو دھمکیوں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ سے متعلق این آئی اے کا ادعاء مسترد
ممبئی ۔ یکم اکٹوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے 2008 ء کے مالیگاؤں دھماکے کے مقدمہ کی کیمرہ کے ذریعہ ویڈیوگرافی میں سماعت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے ۔ خصوصی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے کیمرہ ریکارڈنگ میں مقدمہ کی سماعت کی درخواست کی تھی ۔ این آئی اے کے خصوصی جج وی ایس پڈالکر نے کہاکہ اس مقدمہ کی شفاف انداز میں سماعت جاری ہے جو کیمرہ ریکارڈنگ میں سماعت کے لئے این آئی اے کی درخواست مسترد کرنے کی کئی وجوہات میں ایک ہے۔ انھوں نے میڈیا کو ’’چند پابندیوں‘‘ کے ساتھ مقدمہ کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اخباری نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اپنے متعلقہ میڈیا اداروں کی طرف سے دیئے جانے والے شناختی کارڈ کی نقل پیش کریں۔ دوران سماعت کوئی الیکٹرانک آلات استعمال نہ کئے جائیں اور اس مقدمہ کی تفصیلات حقیقت پر مبنی انداز میں پیش کی جائیں ۔ عدالت نے مزید کہاکہ مقدمہ کی سماعت کے مکمل ہونے تک کسی بھی قسم کا کوئی اداریہ ، شخصی رائے یا مباحثے لکھے نہ جائیں۔ کیمرہ ریکارڈنگ خانگی انداز میں کی جاتی ہے جس میں صرف جج ہی سماعت کرتے ہیں ۔ وکلاء ملزمین اور متعلقہ گواہان ہی حاضر رہتے ہیں ۔ کیمرہ ریکاڈنگ میں کی جانے والی سماعت سے عوام اور میڈیا کو باخبر ہونے نہیں دیا جاتا ۔ این ائی اے نے قبل ازیں اس عدالت میں داخل کردہ درخواست میں کہا تھا کہ وہ بھی اگرچہ آزادی صحافت کی مخالف نہیں ہے لیکن مقدمہ کی سماعت کیمرہ ریکارڈنگ میں کی جانی چاہئے کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی درخواست میں مزید کہا تھا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لئے وہ اس مقدمہ کی کیمرہ ریکارڈنگ میں سماعت چاہتی ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گواہوں کو خطرہ لاحق ہے

لیکن عدالت نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ این آئی اے نے ’’فرقہ وارانہ عدم ہم آہنگی یا داخلی سلامتی کو لاحق خطرہ ‘‘ کے بارے میں اس کو اطلاع فراہم نہیں کی تھی ۔ عدالت نے مزید کہا کہ گواہوں کو دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں بھی اس (عدالت) کو این آئی اے سے کوئی مکتوب موصول نہیں ہوا تھا ۔ قبل ازیں چند جرنلسٹوں نے درخواست مداخلت دائر کرتے ہوئے این آئی اے کی درخواست کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو مقدمہ کی سماعت کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ نیز این آئی اے قانون کے تحت گواہوں کی حفاظت کے لئے خاطر خواہ ضابطے ہیں۔ میڈیا نمائندوں نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ گواہوں کو کسی دھمکی کی کوئی مثال منظرعام پر نہیں آئی ۔ واضح ہوکہ 29 ستمبر 2008 ء کو ضلع ناسک کے مالیگاؤں کی ایک مسجد کے قریب موٹر سیکل بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں چھ افراد ہلاک اور دیگر 100 زخمی ہوگئے تھے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹننٹ کرنل پرساد پروہت اور دوسروں کے خلاف ہندوستانی تعزیری قانون کی مختلف دفعات کے علاوہ غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کے تحت خصوصی ٹیموں کی طرف سے الزامات وضع کئے جانے کے بعد گزشتہ سال اکتوبر میں تحت کی اس عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تھی ۔