ماویسٹ سرگرمیوں میں اضافہ پر چوکسی اور تلاشی مہم تیز

,

   

ملگ میںتلنگانہ اور چھتیس گڑھ پولیس عہدیداروں کا اجلاس۔ ڈی جی پی کا دورہ

حیدرآباد۔ تلنگانہ کے چھتیس گڑھ سے ملنے والے اضلاع میں پولیس کی جانب سے چوکسی اور تلاشی مہم میں تیزی پیدا کردی گئی ہے کیونکہ ان علاقوں میں سی پی آئی ماویسٹوں کی نقل و حرکت محسوس کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں آج ملگ ضلع کے وینکٹاپورم ضلع میں ایک اعلی سطح کا اجلاس تلنگانہ و چھتیس گڑھ پولیس اور سی آر پی ایف عہدیداروں کے ساتھ منعقد ہوا تاکہ ماویسٹوں کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے ۔ ایک طویل عرصہ تک خاموشی کے بعد ماویسٹوں نے تلنگانہ ریاست میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ خاص طور پر متحدہ ضلع عادل آباد ‘ ورنگل اور کھمم میں یہ سرگرمیاں بڑھی ہیںجن سے پولیس فورس کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ ماویسٹوں کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کو راغب کرنے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان حالات پر پولیس نے بھی ماویسٹ سرگرمیوں کو قابو میں کرنے کیلئے اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کردی ہے ۔واضح رہے کہ چھ ماویسٹوں کو تلنگانہ پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ چار ماویسٹ بھداردری کتہ گوڑم میں انکاونٹر میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ماویسٹ آصف آباد ضلع میں مارے گئے تھے ۔ ماویسٹوں نے چھتیس گڑھ میں بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے اور وہاں کئی افراد بشمول کو ہلاک کردیا ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر کے وجئے کمار سینئر سکیوریٹی مشیر وزارت داخلہ ‘ اے پی مہیشوری ڈائرکٹر جنرل سی آر پی ایف ‘ ایم مہیندر ریڈی ڈی جی پی تلنگانہ ‘ اشوک جونیجا ایس ڈی جی نکسل ‘ چھتیس گڑھ ‘ ڈی آئی جی آپریشنس سی آر پی ایف ‘ سندر راج ڈی آئی جی بستر رینج ‘ سنیل دت ایس پی کتہ گوڑم اور دوسرے سینئر پولیس عہدیداروں کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں دوسرے عہدیداروں اور سی آر پی ایف حکام نے بھی شرکت کی ۔ اس اجلاس میں حالیہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بائیں بازو کی تخریب کاری کو دونوںریاستوں میں کم سے کم کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ان پولیس عہدیداروں نے پولیس فورسیس کے درمیان مزید رابطوں اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نگرانی میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئے ۔