ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ پر ہریش راؤ کا سخت ردعمل ، تجربات کو بند کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 27 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : سابق وزیر و بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کردہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ بغیر مستند ماہر تعلیم کے تشکیل دی گئی کمیٹی سے ریاست کو کچھ بھی فائدہ نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ہریش راؤ نے کہاکہ ایجوکیشن کمیشن میں ایسے کوئی ماہرین شامل نہیں ہے ۔ جنہیں اسکولی سطح پر بنیادی مضامین پڑھانے یا کالج و یونیورسٹی میں تدریس کا تجربہ ہو ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کے پس منظر رکھنے والے دو پروفیسرس کے علاوہ کمیٹی میں کوئی ایسا فرد شامل نہیں ہے ۔ جس نے تعلیم میں پی ایچ ڈی کی ہو یا نصاب سازی اور بنیادی سائنسی مضامین کی تیاری میں عملی رول ادا کیا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے صدر نشین ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر اور انجینئر ہیں ۔ دفاتر چلانا اور کام ہے پڑھانا اور چیز ہے ۔ کیا انہیں بچوں کی نفسیات اور تدریسی طریقوں کی مکمل سمجھ ہے ۔ کیا واقعی ایسی کمیٹی تلنگانہ میں تعلیم کے مستقبل کو بدلنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ ہریش راؤ نے زور دے کر کہا کہ ایک ایسا کمیشن جو لاکھوں طلبہ کے مستقبل کا تعین کرے گا اس میں تجربہ کار اساتذہ ، ماہرین کی موجودگی ناگزیر ہے ۔ زمینی سطح پر پڑھانے والے اساتذہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ نصاب کیا ہونا چاہئے اور تدریسی طریقے کیسے ہوں ۔ جب کہ غیر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد یہ ذمہ داری موثر انداز میں نہیں نبھا سکتے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں گزشتہ دو برسوں سے محکمہ تعلیم کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ غیر متعلقہ افراد پر مشتمل کمیٹی بناکر وقت ضائع کیا گیا ہے ۔ تعلیمی نظام کے بارے میں بنیادی معلومات کے بغیر تجربات کرنا طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ ہریش راؤ نے مطالبہ کیا کہ نئے تعلیمی نظام کی تشکیل میں شفافیت برتی جائے اور حقیقی ماہرین تعلیم کو ذمہ داری سونپی جائے تاکہ تلنگانہ کے طلبہ ، والدین اور اساتذہ کے خدشات دور ہوسکیں ۔۔ 2