مباحث سے راہ اختیار کرنے کا کے ٹی آر پر الزام: ڈی شراون

   

حیدرآباد : آل انڈیا کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان ڈی شراون نے ملازمتوں کی فراہمی کے معاملے میں مباحث سے راہ فرار اختیار کرنے کا ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر پر الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی شراون نے کہا کہ وزیر کے ٹی آر نے ایک لاکھ 36 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس پر مباحث کیلئے تیار رہنے کا اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کیا تھا۔ جب کانگریس نے چیلنج کو قبول کیا اور شہیدان تلنگانہ گن پارک پر مباحث کیلئے آنے کا پیشکش کیا گیا تو کے ٹی آر وہاں نہیں پہنچے۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ انہوں نے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے جو دعویٰ کیا تھا وہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ اے آئی سی سی ترجمان نے کہا کہ اگر حکومت حقیقت میں 1.36 لاکھ ملازمتیں فراہم کرتی تو کے ٹی آر ضرور مباحث کو پہنچتے تھے۔ انہوں نے کے ٹی آر کو اپنا نام تبدیل کرلینے کا مشورہ دیا۔ ڈی شراون نے انہیں غنڈوں اور لٹیروں سے تنقید کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر انیمل ہسبینڈری پہلے خود اپنا محاسبہ کرلیں کہ وہ کیا ہے ان کی اوقات کیا ہے۔ اس کے بعد دوسروں پر تنقید کریں۔
بیروزگار نوجوانوں کے بارے میں سوال کرنا غلط ہے کیا ٹی آر ایس قائدین سے استفسار کیا اور ٹی سرینواس یادو کو سیاسی گداگر قرار دیا۔ ڈی شرون نے کہا کہ کانگریس کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے دوراقتدار تک ایک لاکھ 30 ہزار ملازمتیں فراہم کردی گئی تھی۔ کانگریس کے دور میں صرف 10 ہزار جائیدادوں پر تقررات کرنے کا الزام مضحکہ خیز ہے۔ اگر وہ جو اعداد و شمار پیش کررہے ہیں اگر کے ٹی آر کی جانب سے اس کو جھوٹا اور غلط ثابت کرنے پر گلا کاٹ کر خودکشی کرلین کا اعلان کیا۔