کاماریڈی سے گاندھی ہاسپٹل منتقل کئے جانے والے شخص کے معائنہ کے بعد منفی رپورٹ، کلکٹر کا بیان
نظام آباد؍حیدرآباد۔4؍ مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع نظام آباد کے اندلوائی منڈل کے یلاریڈی پلی کا ساکن راجنا گذشتہ ایک ہفتہ قبل دبئی سے آیا ہوا تھا اور آنے کے بعد سے شدید بخار میں مبتلا ہونے پر کاماریڈی کے ایک خانگی دواخانہ میں بتانے پر کورونا وائرس کا شبہ کرتے ہوئے کل رات 11 بجے کے بعد 108 ایمبولنس کے ذریعہ گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد اسے نگیٹیو رپورٹ کا انکشاف کیا اوراس تعلق سے آج 3 بجے ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے پرگتی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد متحدہ ضلع میں کورونا وائرس کا کوئی بھی کیس کی نشاندہی نہیں کی گئی لیکن یلاریڈی پلی سے تعلق رکھنے والے راجنا شدید بخار میں مبتلا ہونے پر گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کے بعد کورونا وائرس نیگیٹو رپورٹ کا انکشاف کیا ہے لہذا ضلع میں کورونا وائرس پر پھیلائی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دینے کی ہدایت دی ۔اس کے علاوہ ضلع میں کورونا وائرس کے نام پر ادویات فروخت کرنے والوں پر بھی نظر رکھی گئی ہے اور خانگی دواخانوں کے انتظامیہ سے بھی بات چیت کی جارہی ہے اور کورونا وائرس کے نام پر پھیلا ئی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دینے کی خواہش کی ۔ ضلع میں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کیلئے تمام انتظامات کو مکمل کیا گیا ہے ۔ جنرل ہاسپٹل میں خصوصی وارڈ کو مختص کرتے ہوئے 20 بستر ڈالے گئے ہیں اور 8 ڈاکٹرس کو تعینات کیا گیا ہے اگر کسی کو بھی کورونا وائرس کا شبہ ہونے پر فوری دواخانہ سے رجوع ہونے کی خواہش کی ۔ضلع کے تمام دواخانوں میں اس خصوص میں اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے اس بارے میں افواہوں پر توجہ نہ دینے کی خواہش کی ۔اور سرکاری دواخانہ میں آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے ۔ کورونا وائرس کے بارے میں محکمہ صحت عامہ کے بارے میں شعور بیداری مہم بھی انجام دینے کے علاوہ محکمہ تعلیمات کے ذریعہ بھی اس بارے میں شعور بیداری انجام دی جارہی ہے اگر کسی کو بھی شدت کی بخار ہونے کی صور ت میں معائنہ کرائیں اور انہیں علیحدہ رکھیں ۔ طلباء کو بخار ہونے صورت میں اسکول کو روانہ، نہ کریں ۔ چھینک اور ہاتھ ملانے سے یہ وباء پھیل سکتی ہے لہذا ہاتھ ملانے کے بعد ہاتھ دھولیں اور زبان کو خشک ہونے نہ دیں اور پانی پیتے رہیں، اس موقع پر ضلع کلکٹر نے آئی ایم اے کی جانب سے پمفلٹ کی بھی رسم اجرائی کی ۔
دریں اثناء بتایا جاتا ہے کہ ضلع کاماریڈی میں ایک خانگی دواخانہ ( پرائیویٹ ہاسپٹل ) کو بخار، زکام وغیرہ سے متاثرہ فرد ( شخْص ) پہنچنے پر اس شخص میں کورونا وائرس کے بعض آثار پائے جانے کے شکوک و شبہات پر اس شخص کو فوری طور پر گاندھی ہاسپٹل حیدرآباد سے رجوع کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے متحدہ ضلع نظام آباد میں زبردست ہلچل پائی گئی وہ شخص شدید بخار کی وجہ سے گزشتہ دن یعنی بروز منگل 3 مارچ کو کاماریڈی میں ایک پرائیویٹ ہاسپٹل پہنچا جس پر ڈاکٹروں نے مختلف ٹسٹس کروائے اور ان ٹسٹوں میں کورونا وائرس کے آثار پائے جانے کے شکوک و شبہات کی روشنی میں نہیں گاندھی ہاسپٹل حیدرآباد سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ جس پر دواخانہ میں موجود پلمونولوجسٹ( امراض سینہ کے ماہر ڈاکٹر ) نے بتایا کہ راجنا نامی فرد نے ملاقات کرکے شدید بخار، کھانسی، اعضاء شکنی اور سردرد رہنے کی شکایت کی اور مزید بتایا کہ دوبئی میں رہنے کے دوران ہی اس کی صحت ناساز تھی۔ ڈاکٹر نے مزید کہا کہ کورونا وائرس سے متاثر رہنے کے تعلق سے وہ مکمل یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ کاماریڈی میں پائی جانے والی سنسنی خیز صورتحال پر انچارج ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ڈاکٹر چندر شیکھر سے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ عوام کو کسی تشویش میں مبتلاء ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ راجنا جس پرائیویٹ ہاسپٹل سے رجوع ہوا تھا اس ہاسپٹل کے ڈاکٹروں کے ساتھ انہوں نے تبادلہ خیال کرکے مکمل تفصیلات سے واقفیت حاصل کی اور احتیاطی تدابیر کے تحت ہی اس کو گاندھی ہاسپٹل حیدرآباد سے رجوع ہونے کا مشورہ دیاگیا۔