متعدد مرد ارکان اسمبلی کیلئے آخری الیکشن ثابت ہونے کا امکان،2028ء کے انتخابات میں خواتین کو 33 فیصد نشستیں، تحفظات بل کی منظوری کا گہرا اثر

   

حیدرآباد۔27۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے آئندہ انتخابات ریاست کے کئی مرد ارکان اسمبلی کے لئے آخری ہوں گے کیونکہ ملک میں خواتین تحفظات بل کی منظوری کے بعد ریاستی اسمبلی کے انتخابات جو 2028 میں منعقد ہوں گے اس میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لئے محفوظ ہوجائیں گی جن پر محض خواتین ہی مقابلہ کے لئے اہل ہوں گی۔ تلنگانہ ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران اب یہ بات تیزی سے گشت کرنے لگی ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کئی ارکان اسمبلی کے لئے آخری ہوں گے اور اس کے بعد انہیں اپنی نشست خواتین کے لئے چھوڑنی پڑے گی۔ تلنگانہ اسمبلی کی 119 نشستوں پر اگر خواتین کو 33 فیصد تحفظات کی فراہمی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں 40 نشستوں پر کامیابی حاصل ہو گی جو کہ خواتین کے لئے محفوظ نشستیں ہوں گی۔ تلنگانہ کے حلقہ جات اسمبلی کی از سر نو حد بندی زیر التواء ہے جو کہ آندھراپردیش کی تنظیم جدید قوانین کے مطابق کی جانی ہے اگر 2029 سے قبل اسے مکمل کرلیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ اسمبلی کی نشستیں 119 سے بڑھ کر 153 ہوجائیں گی اور اگر ان نشستوں کے اعتبار سے خواتین کے لئے 33 فیصد نشستیں مخصوص کی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں 50 حلقہ جات اسمبلی خواتین کے لئے محفوظ ہو جائیں گے۔
ریاستی اسمبلی میں خواتین کے لے محفوظ حلقہ جات کی فراہمی کے ساتھ 2024 عام انتخابات کے بعد جو پارلیمانی انتخابات ہوں گے اس سے قبل خواتین تحفظات کی صورت میں ریاست کی 17 پارلیمانی نشستوں میں 4 نشستوں کو محفوظ کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ 33 فیصد کے اعتبار سے جو نشستیں محفوظ کی جائیں گی ان نشستوں کے اعلان سے قبل کہا جا رہاہے پارلیمانی حلقہ جات کی بھی از سر نو حد بندی کی جائے گی اور اس حد بندی کے بعد تلنگانہ میں حلقہ جات اسمبلی کی تعداد گھٹنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جار ہاہے اور کہا جار ہاہے اگر پارلیمانی نشستوں کی تعداد کو کم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست میں خواتین کی تین محفوظ لوک سبھا نشستیں ہونے کا امکان ہے ۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں جو مرد امیدوار حصہ لے رہے ہیں ان کی بڑی تعداد 2028 اسمبلی انتخابات میں اپنے حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کی اہل نہیں ہو گی اسی لئے کئی امیدوار اپنے افراد خاندان کو ابھی سے میدان میں اتارنے کی تیاری کرنے لگے ہیں۔