ڈاکٹرس اور عملہ سے بحث و تکرار ، دواخانہ میں توڑ پھوڑ ، 15 احتجاجی گرفتار
حیدرآباد: شہر کے علاقہ بنجارہ ہلز میں پیش آئے ایک واقعہ میں متوفی کورونا وائرس مریض کے رشتہ داروں نے ایک کارپوریٹ دواخانہ پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ مچائی اور انتظامیہ کو بھی زد و کوب کیا ۔ اس واقعہ کے بعد دواخانہ میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس نے متوفی کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق 9 مئی کو بوڈ اُپل سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویر انجنیئر ومشی کرشنا کو بنجارہ ہلز کے کارپوریٹ دواخانہ ورنچی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے شریک کیا گیا تھا اور 22 مئی کو علاج کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی ۔ متوفی کے رشتہ داروں نے ومشی کرشنا کی موت کے بعد اس کے علاج کے بارے میں ایک ڈاکٹر سے مشورہ کیا جس میں یہ بتایا گیا کہ ہاسپٹل کے جانب سے مبینہ طورپر ٹھیک علاج نہ ہونے پر اس کی موت واقع ہوگئی ہے ۔ ڈاکٹر کی رائے حاصل کرنے کے بعد ومشی کرشنا کے رشتہ دار برہم ہوگئے اور تقریباً 15 تا 20 افراد پر مشتمل ایک ٹولی دواخانہ میں داخل ہوگئی ، ڈاکٹروں اور دیگر ہاسپٹل کے عملہ سے ومشی کرشنا کی موت کے بارے میں سوالات کرنے لگے ، اسی دوران بعض افراد ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے فرنٹ آفس کا فرنیچر ، کمپیوٹر اور دیگر اشیاء کا توڑ پھوڑ کردیا اور ہنگامہ آرائی کی ۔ دواخانہ کے انتظامیہ نے فوری پولیس پنجہ گٹہ کو اس سلسلہ میں آگاہ کیا اور کچھ ہی دیر میں پولیس کی ایک ٹیم وہاں پہنچ گئی ۔ متوفی کے رشتہ داروں نے یہ الزام عائد کیا کہ ومشی کرشنا کا غلط علاج کیا گیا جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی اور علاج کے بہانے 20 لاکھ روپئے ہڑپ لئے ۔ پولیس پنجہ گٹہ نے ہنگامی آرائی کرنے والے 15 افراد کو حراست میں لے کر گوشہ محل اسٹیڈیم منتقل کیا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ حراست میں لئے گئے افراد کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا ۔