مجالس مقامی کے انتخابات پر اسٹیٹ الیکشن کمشنر کی قانونی مشاورت

   

حکومت سے موقف واضح کرنے کی اپیل، سپریم کورٹ کے فیصلہ تک انتظار کا مشورہ
حیدرآباد۔ 12 اکتوبر (سیاست نیوز) اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ وہ مجالس مقامی کے انتخابات کے لئے تیار ہیں تاہم اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ اس نے محض تحفظات کے جی او نمبر 9 پر حکم التواء جاری کیا ہے اور انتخابی عمل پر کوئی روک نہیں لگائی گئی۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کو روکنے کا اعلان کیا تاہم ہائی کورٹ کے فیصلہ کی نقل منظر عام پر آنے کے بعد کمیشن نے حکومت سے موقف واضح کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے 5 مراحل میں مجالس مقامی کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا تھا اور پہلے مرحلے کے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کے دن ہی ہائی کورٹ نے تحفظات کے جی او پر حکم التواء جاری کیا جس کے بعد کمیشن نے بھی انتخابی عمل کو روک دیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسٹیٹ الیکنش کمشنر نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمیشن ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق انتخابی عمل جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی گئی تاکہ بی سی تحفظات کے بغیر انتخابات کو یقینی بنایا جاسکے۔ بتایا گیا کہ ریاستی حکومت نے کمیشن کو چند دنوں تک توقف کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیل کا کوئی نتیجہ برآمد ہو۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ سے حکم التواء حاصل ہوتا ہے تو 42 فیصد بی سی تحفظات کے ساتھ انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ اسی دوران اسٹیٹ الیکشن کمشنر رانی کمودنی نے ماہرین قانون سے اس مسئلہ پر مشاورت کی ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ وہ الیکشن کے لئے تمام تر تیاریوں کو مکمل کرچکا ہے تاہم سپریم کورٹ میں حکومت کی درخواست پر عدالت کے موقف کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں کوئی راحت نہ ملنے کی صورت میں پارٹی امیدواروں میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کے ساتھ انتخابات منعقد کئے جائینگے۔ 1