پیرس : پیرس میں فرانسیسی حکام کے ہاتھوں غلط گرفتاری کے بعد رہائی پانے والے ایک سعودی شہری خالد العتیبی نے کہا ہیکہ گرفتاری کے بعد اس کیساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ العتیبی نے میڈیا کوبتایا کہ پیرس کے ہوائی اڈے پر محکمہ پاسپورٹ نے اسے ریاض جاتے ہوئے روکا، اس کی تلاشی لی اور پھر اسے 3 گھنٹے تک ہوائی اڈہ پر حبس بے جا میں حراست میں رکھا۔ اس نے کہا کہ بعد میں پولیس اسے ہوائی اڈہ کے قریب ایک حفاظتی مرکز میں لے گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس نے فرانسیسی پولیس سے کہا کہ وہ اپنے ملک کے سفارتخانے سے رابطہ کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے وکیل مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بعد میں وہ اپنے ایک دوست سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا، جس نے جواباً سفارتخانے کو فون کیا۔ سفارتخانہ فوری حرکت میں آیا اور اس نے اپنے ملازمین مجھے تلاش کرنے کیلئے بھیجے۔خالد العتیبی نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اپنا موبائل فون حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد اسے سفارتخانے سے کال موصول ہوئی۔
سفارتخانے نے میری جگہ کے بارے میں معلومات لیں۔ سعودی سفیر مجھ سے ملنے آئے مگر پولیس نے ملنے نہیں دیا۔