محبوب آباد میں اغوا شدہ لڑکے کا قتل اور نعش نذر آتش

   

ایک شخص گرفتار محبوب آباد ایس پی کوٹی ریڈی کی پریس کانفرنس

ورنگل ۔ضلع محبوب آباد سے تعلق رکھنے والا ٹی وی چینل رپورٹر رنجیت ریڈی کے فرزند ڈکشٹ ( 9سال ) کا اتوار کو اغواء کرکے قتل کردیاگیا بعد ازاں اس کی نعش پر پٹرول کر نذر آتش کیا گیا ۔پولیس کو محبوب آباد کے سمدرم میں واقع انارم پہاڑ کے پاس لڑکے کی جلی ہوئی نعش دستیاب ہوئی ۔اغواء کنندہ نے اغوا ء کے بعد 45لاکھ روپئے تاوان کا مطالبہ کیا تھا ۔اس ضمن میں ضلع ایس پی محبوب آباد کوٹی ریڈی نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ محبوب آباد سے وابستہ ایک ٹی وی چینل رپورٹر کے فرزند کا اتوار کو اغواء کیا گیا ۔اسی دن لڑکے کے والدین نے پولیس اسٹیشن میں ڈکشٹ کے اغواء کی شکایت درج کروائی ۔لڑکے کو پکڑنے کے لئے عہدیداروں نے100افراد پر مشتمل 10ٹیموں کو تشکیل دیا جس میں محبوب آباد پولیس کے علاوہ ٹاسک فورس پولیس ،سائبر کرائم پولیس شامل ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں محبوب آباد منڈل کے شنگاپورم موضع سے تعلق رکھنے والا مندا ساگر ( 23سال ) جو میکانک پیشہ سے وابستہ تھا گرفتار کرلیا گیا ۔دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ مندا ساگرکی رنجیت ریڈی کے مکان کے قریب ہی میکانک شاپ ہے ۔مندا ساگر اکثر اس لڑکے سے بات چیت کرتا تھا ۔کم وقت میں ذیادہ پیسے کمانے کی لالچ میں اس نے ڈکشٹ کا اغواء کیا ۔بعد ازاںاغواء کے ایک گھنٹہ کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے لڑکے کا قتل کرکے اس کی نعش کو نذر آتش کردیا ۔اس کے فوری بعد بڑی ہمت کے ساتھ مندا ساگر، لڑکے کو ڈھونڈے والوں میں شامل ہوگیا ۔مندا ساگر نے رنجیت ریڈی سے کہاکہ وہ گھبرائے نہیں ،اغواء کرنے والا جتنی رقم طلب کیا ہے اس رقم کو کہیں سے بھی اکھٹا کرکے بچے کو چھڑائیں گے ۔اگر ہوا تو میں ہی اس اغواء کنندے کے پاس روپیئے لیکر جائونگا ۔کڈناپر کے اسی باتوں پر شک کی بنیاد پر پکڑکر حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کرنے پر اس نے اپنا جرم قبول کیا کہ وہ روپیوں کے لالچ میں ہی ڈکشٹ کا اغواء کیا اور بعد ازاں قتل کرکے اسے نذر آتش کردیا ۔اس موقع پر دیگر عہدیدار موجود تھے ۔