کے سی آر کے خلاف کانگریس کی حکمت عملی ، کاما ریڈی سے ریونت ریڈی متوقع امیدوار محمد علی شبیر ایلا ریڈی سے مقابلہ کریں گے،
حیدرآباد ۔19۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے گجویل اور کاما ریڈی اسمبلی حلقہ جات سے مقابلہ کے اعلان کے ب
ع کانگریس کے سینئر لیڈر محمد علی شبیر کے سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ محمد علی شبیر نے کاما ریڈی میں اپ انتخابی مہم کا باقاعدہ طور پر آغاز کردیا ہے اور چیف منسٹر کے سی آر نے 9 نومبر کو گجویل اور کاما ریڈی سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کے مقابلہ کی صورت میں محمد علی شبیر کی کامیابی سے متعلق مختلف گوشوں اور خاص طور پر مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان حالات میں کانگریس ہائی کمان نے اپنے سینئر مسلم لیڈر کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے چونکا دینے والا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر پر دباؤ میں اضافہ کرنے کیلئے کانگریس ہائی کمان نے کاما ریڈی سے کے سی آر کے خلاف صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ محمد علی شبیر کاما ریڈی کے بجائے پڑوسی حلقہ ایلا ریڈی سے مقابلہ کریں گے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق راہول گاندھی ، ملکارجن کھرگے اور ریونت ریڈی کے درمیان ملاقات کے موقع پر یہ حکمت عملی طئے کی گئی۔ ریونت ریڈی نے کاما ریڈی سے مقابلہ کا پیشکش کیا تاکہ پارٹی کے سینئر مسلم رہنما کو ایلا ریڈی سے کامیاب کیا جاسکے۔ چیف منسٹر کی طرح ریونت ریڈی بھی کوڑنگل اور کاما ریڈی دونوں حلقہ جات سے مقابلہ کریں گے ۔ کانگریس پارٹی کو یقین ہے کہ ریونت ریڈی کے مقابلہ کی صورت میں کاما ریڈی سے کے سی آر کو شکست ہوگی۔ کانگریس ہائی کمان نے انتخابی مہم کے دوران کے سی آر پر دباؤ بنانے کیلئے یہ منصوبہ تیار کیا تاکہ مسلمانوں کو یہ پیام دیا جاسکے کہ پارٹی نے مسلم قائد کو شکست سے بچانے کے علاوہ انہیں کامیاب بنانے کے لئے محفوظ حلقہ الاٹ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ ایلا ریڈی اسمبلی حلقہ کانگریس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے ۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات میں کانگریس امیدوار جی سریندر نے بی آر ایس امیدوار ای رویندر ریڈی کو شکست دی تھی ۔ بعد میں وہ کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے بی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ بی آرایس نے سریندر کو اس مرتبہ ٹکٹ دیا ہے جبکہ بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی ای رویندر ریڈی نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ایلا ریڈی میں کانگریس کی لہر اور سابق رکن اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت سے محمد علی شبیر کی کامیابی کے امکانات روشن بتائے جاتے ہیں۔ ان تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کمان نے کے سی آر کے خلاف ریونت ریڈی کو میدان میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ راہول گاندھی کی بس یاترا کے بعد نئی دہلی واپسی پر سنٹرل الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں اس فیصلہ کو منظوری دی جائے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 21 اکتوبر کو اس بارے میں قطعی فیصلہ ہوگا۔ ہائی کمان نے محمد علی شبیر کو کاما ریڈی کے بجائے یلا ریڈی سے مقابلہ کیلئے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ بعض گوشوں میں نظام آباد اربن حلقہ سے محمد علی شبیر کے مقابلہ کی پیش قیاسی کی گئی ہے جس کی پارٹی نے تردید کی اور کہا کہ نظام آباد اربن سے مقامی اقلیتی قائد کو پارٹی ٹکٹ الاٹ کرسکتی ہے۔ کے سی آر کو کاما ریڈی میں ریونت ریڈ ی اور گجویل میں بی جے پی لیڈر ایٹالہ راجندر سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔