گوشہ محل سے مقابلہ کیلئے کے سی آر کو چیلنج، مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرنے والے راجہ سنگھ سے مجلس کی ہمدردی، مسلمانوں کی قیادت کے دعویٰ پر شبہات
حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے صدر مجلس اسد اویسی سے سوال کیا کہ وہ اسمبلی چناؤ میں ایک مسلمان قائد کو منتخب کرنے کی اپیل کریں گے یا پھر انہیں شکست دینے کیلئے اپنے دوست کے سی آر کی تائید کریں گے؟۔ گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اسد اویسی کو چیلنج کیا کہ وہ مسلمانوں کے دشمن راجہ سنگھ کے خلاف مقابلہ کرکے دکھائیں یا پھر کے سی آر کو گوشہ محل سے مقابلہ کی ترغیب دیں تاکہ فرقہ پرست شخص کو شکست دی جاسکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں سے ہمدردی کے نام پر مجلسی قیادت بی آر ایس اور بی جے پی کے اشارہ پر کام کررہی ہے۔ مسلمانوں سے دوستی کا دم بھرنے والے اسد اویسی کاماریڈی پہنچ کر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے والے محمد علی شبیر کو کامیاب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اپنی سنجیدگی ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بھلائی کیلئے جو کچھ بھی اقدامات کئے گئے وہ کانگریس دور حکومت کے ہیں۔ 4 فیصد تحفظات اور مسلمانوں کو امداد کیلئے فینانس کارپوریشن کا قیام کانگریس کا کارنامہ ہے۔ کانگریس نے اقلیتوں کے 51 انجینئرنگ کالجس قائم کئے تھے جن میں سے 40 بی آر ایس دور حکومت میں بند ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 1989 میں یوتھ کانگریس لیڈر محمد علی شبیر کو کاماریڈی سے ٹکٹ دے کر کامیاب کیا تھا۔ 30 سال کی عمر میں انہیں ڈاکٹر چنا ریڈی کی کابینہ میں وزیر بنایا گیا۔ محمد علی شبیر اسوقت سے آج تک تقریباً 40 سال سے اقلیتوں کی خدمت کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر مسلمانوں کی شناخت ہیں اور 2004 میں کسانوں کو مفت برقی سربراہی پر ان کی دستخط سے عمل کیا گیا۔ ایسے قائد کو ہرانے کیلئے کے سی آر کاماریڈی سے مقابلہ کررہے ہیں اور انہیں اسد اویسی کی تائید حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی میرے اچھے دوست ہیں اور میں ان سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کس کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ راجہ سنگھ گوشہ محل میں مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کررہا ہے اور اس نے اویسی خاندان کے خلاف انتہائی قابل اعتراض بیانات دیئے لیکن آپ اور آپ کے دوست کے سی آر نے کبھی بھی گوشہ محل سے انتخاب نہیں لڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرنے والے راجہ سنگھ کو کامیاب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجلس کے ہیڈ کوارٹر دارالسلام گوشہ محل کے تحت ہے اور وہاں عملاً بی جے پی کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اپنے ہیڈکوارٹر کے علاقہ میں مجلس الیکشن نہیں لڑتی اور نہ ہی کے سی آر کو راجہ سنگھ کو ہرانے سے دلچسپی ہے۔ ایک اقلیتی لیڈر کو ہرانے کیلئے آپ اور آپ کے دوست کاماریڈی میں چناؤ لڑرہے ہیں۔ انہوں نے اسد اویسی سے سوال کیا کہ وہ اقلیتی قائد کو کامیاب کرنے کیلئے اپیل کریں گے یا پھر انہیں ہرانے کیلئے کے سی آر کی مدد کریں گے۔ اگر آپ اقلیتوں کی بھلائی کے دعویدار ہیں تو پھر راجہ سنگھ کو کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راجہ سنگھ، مودی ، امیت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کا خاص آدمی ہے لہذا اس کے خلاف مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ جہاں کانگریس نے اقلیتی قائد کو کامیاب کرنے کیلئے مساعی کی ہے وہیں سے کے سی آر مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر راجہ سنگھ کیلئے میدان صاف چھوڑنے کی کیا وجوہات ہیں؟۔ آپ میں ہمت ہو تو کے سی آر کو گوشہ محل سے مقابلہ کیلئے آمادہ کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی شکست کو یقینی بنائیں لیکن آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس کے لئے مودی کی اجازت اور امیت شاہ کی مدد ضروری ہے۔ اسد اویسی دراصل مودی اور امیت شاہ کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر راجہ سنگھ کو شکست نہیں دی گئی تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ مجلسی قیادت مسلمانوں کی ہمدرد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی اور گوشہ محل کے بارے میں مجلس کی پالیسی سے یہ واضح ہوجائے گا کہ وہ بی جے پی کی دوست ہے یا نہیں۔